🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الإِزَارِ
باب: تہبند میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قال: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ:" لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے (جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں) کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 767]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور انہوں نے اپنے ازار (چھوٹے ہونے کی وجہ سے) بچوں کی طرح گردنوں پر باندھے ہوتے تھے، تو (احتیاطاً) عورتوں سے کہا گیا: تم سجدے سے سر نہ اٹھایا کرو حتیٰ کہ مرد سیدھے بیٹھ جایا کریں۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، الأذان 136 (814)، العمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن ابی داود/الصلاة 79 (630)، (تحفة الأشراف: 4681)، مسند احمد 3/433، 5/331 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قال: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: إِنَّهُ قَالَ:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ". قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ؟.
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 768]
حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میری قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹے تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تمہاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ تو انہوں نے مجھے بلایا (کیونکہ مجھے زیادہ قرآن یاد تھا) اور مجھے رکوع اور سجدے کا طریقہ سکھایا تو میں انہیں نماز پڑھایا کرتا تھا اور مجھ پر ایک پھٹی ہوئی چادر تھی۔ لوگ میرے والد سے کہتے تھے: کیا تم ہماری نظروں سے اپنے بیٹے کی شرم گاہ نہیں ڈھانپ سکتے؟ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 637 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں