سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الْحَرِيرِ
باب: ریشمی کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 771
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 771]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک اچکن (یعنی شیروانی سے ملتا جلتا لباس) تحفے میں دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو اسے بڑی تیزی اور سختی سے اتار دیا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرما رہے ہوں، پھر فرمایا: ”یہ پرہیزگاروں کے لیے جائز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 16 (375)، اللباس 12 (5801)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (2075)، (تحفة الأشراف: 9959)، مسند احمد 4/143، 149، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه