سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ
باب: نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، ثُمَّ قَالَ:" شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 772]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار منقش چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ رکھا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور اس سے اس کی «أَنْبِجَانِيَّةُ» (انبجانی) چادر لے آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 14 (373)، الأذان 93 (752)، اللباس 19 (5817)، صحیح مسلم/المساجد 15 (556)، سنن ابی داود/الصلاة 167 (914)، اللباس 11 (4053)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (3550)، (تحفة الأشراف: 16434)، موطا امام مالک/الصلاة 18 (68) مرسلاً، مسند احمد 6/37، 46، 177، 199، 208 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه