🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لَا أَحْسَبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى صَلَاةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً أَوْ يَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ يُكَفِّرُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ۱؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے (اپنے گھر سے) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں (صحابہ کرام) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، (تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے (عہدرسالت میں) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر (مسجد) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 850]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جس آدمی کی یہ خواہش ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کو (مکمل طور پر) اسلام کی حالت میں ملے تو اسے پانچ نمازوں کی پابندی اس جگہ کرنی چاہیے جہاں ان کی اذان کہی جائے (یعنی مسجد میں باجماعت)؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے جاری فرمائے۔ تحقیق یہ (پانچوں) نمازیں (باجماعت مسجد میں پڑھنا بھی) ہدایت کے طریقوں میں سے ہے۔ بلاشبہ میں سمجھتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے گھر میں مسجد بنا رکھی ہے جس میں وہ نماز پڑھتا ہے۔ اس طرح اگر تم گھروں میں (فرض) نمازیں پڑھتے رہے اور مسجدوں میں جانا چھوڑ دیا تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا (معروف) طریقہ چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو بھی مسلمان آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے چل کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے عوض، جو وہ اٹھاتا ہے، ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کی بنا پر ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کی کوئی نہ کوئی غلطی معاف فرما دیتا ہے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ ہم (اس وجہ سے) قریب قریب قدم رکھا کرتے تھے۔ اور واللہ! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اقدس میں نماز سے کوئی شخص پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق ہر ایک کو معلوم تھا۔ اللہ کی قسم! میں نے (اس دورِ مبارک میں) دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر مسجد میں لایا جاتا تھا حتیٰ کہ اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 44 (654)، سنن ابی داود/الصلاة 47 (550) مختصراً، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9502)، مسند احمد 1/382، 414، 415، 419، 455 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں مسجد میں جا کر جماعت سے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ:" أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَجِبْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر (گائیڈ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ہاتھ پکڑ کر چلانے والا نہیں جو مجھے مسجد میں نماز کے لیے لائے اور اس نے آپ سے گزارش کی کہ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی۔ جب وہ واپس جانے کے لیے مڑا تو آپ نے فرمایا: تم اذان سنتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: پھر (نماز کے لیے) ضرور آؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 43 (653)، (تحفة الأشراف: 14822) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ ۲؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ:" هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو آؤ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق مدینہ منورہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں (لہٰذا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیجیے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف آؤ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کامیابی کی طرف آؤ کی ندا سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ضرور آؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر میں (فرض) نماز پڑھنے کی رخصت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 47 (553)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (553) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں