🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ التَّخَصُّرِ، فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث إسحاق بن إبراہیم تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14516)، وحدیث سوید بن نصر أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 11 (545)، (تحفة الأشراف: 14532)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 17 (1220)، سنن ابی داود/الصلاة 176 (947)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (383)، مسند احمد 2/232، 290، 295، 331، 399، سنن الدارمی/الصلاة 138 (1468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ نماز بارگاہ الٰہی میں عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے، اس کے برخلاف کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے تکبر کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو اسی طرح چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِي" هَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ: لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ:" إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْهُ".
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 160 (903) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6724)، مسند احمد 2/30، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں