سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
حدیث نمبر: 944
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5032)، 26 (5039) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 32 (790)، سنن الترمذی/القراءات 10 (2942)، (تحفة الأشراف: 9295)، مسند احمد 1/382، 417، 423، 429، 438، سنن الدارمی/الرقاق 32 (2787)، فضائل القرآن 4 (3390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بھول گیا سے غفلت لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے، اس کے برخلاف بھلا دیا گیا میں حسرت و افسوس اور ندامت کا اظہار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه