سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: لَعْنِ الْمُنَافِقِينَ فِي الْقُنُوتِ
باب: دعائے قنوت میں منافقین پر لعنت بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» ”اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» ”اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں“ (آل عمران: ۱۲۸)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1079]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صبح کی نماز میں آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «اَللّٰهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا» ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین میں سے کچھ لوگوں کا نام لے لے کر بددعا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”آپ کے لیے اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ (یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ) وہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے۔ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 21 (4069)، تفسیر آل عمران 9 (4559)، الاعتصام 17 (7346)، (تحفة الأشراف: 6940)، مسند احمد 2/93، 147 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري