سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: تَرْكِ الْقُنُوتِ
باب: قنوت (قنوت نازلہ) چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت فرمائی، آپ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے خلاف بددعا کرتے تھے، پھر آپ نے قنوت چھوڑ دی۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1078 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1081
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيٍّ فَلَمْ يَقْنُتْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِنَّهَا بِدْعَةٌ".
ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ (یعنی: مداومت) بدعت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1081]
حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم (طارق بن اشیم) رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے قنوت نہ فرمائی۔ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے بھی قنوت نہ کی۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے بھی قنوت نہ کی۔ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے بھی قنوت نہ کی۔ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے بھی قنوت نہ کی۔“ پھر فرمایا: ”اے بیٹے! یہ بدعت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 179 (402)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1241)، (تحفة الأشراف: 4976)، مسند احمد 3/472، و 6/394 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قنوت نازلہ فجر میں بوقت ضرورت پڑھی گئی تھی، پھر چھوڑ دی گئی، اس لیے مداومت (ہمیشہ پڑھنے) کو انہوں نے بدعت کہا، ضرورت پڑنے پر اب بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح