صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا} وَمُحَاسَبَةِ الْمُصَدِّقِينَ مَعَ الإِمَامِ:
باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q1500
وَمُحَاسَبَةِ الْمُصَدِّقِينَ مَعَ الإِمَامِ:
اور ان کو حاکم کے سامنے حساب سمجھانا ہو گا۔ یہاں کان اور رکاز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ بیان فرمایا۔ اور یہی باب کا مطلب ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1500]
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَسْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا ‘ ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسد کے ایک شخص عبداللہ بن لتبیہ کو بنی سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر فرمایا۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حساب لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1500]
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو سلیم کی زکاۃ وصول کرنے کے لیے قبیلہ اسد کے ایک شخص کو مقرر فرمایا جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، جب وہ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حساب لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة