سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: تَخْيِيرِ الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجنے کے بعد من پسند دعاؤں کے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ , قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ , السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ , عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ يَدْعُو بِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو“ کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہو گا، (پھر کہے): «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1299]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (تشہد میں) بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے: اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، فلاں پر سلام اور فلاں پر سلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے بلکہ جب تم میں سے کوئی شخص (قعدے میں) بیٹھے تو وہ کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب (قولی عبادات) اور تمام دعائیں (فعلی عبادات) اور تمام اچھے کلمات (مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ جب تم یہ الفاظ کہو گے تو یہ سلام اور دعا آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر اس کے بعد (درود پڑھ کر) جو (منقول) دعا اسے زیادہ پسند ہو، منتخب کرے اور پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1171، 1278 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح