🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. بَابُ: عَدَدِ التَّسْبِيحِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد کی تسبیح کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1349
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ , وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ" , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا , فَهِيَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَانِ , وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ" وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ ," وَإِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ أَوْ مَضْجَعِهِ سَبَّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , فَهِيَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ" , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهِمَا؟ فَقَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ , فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا , اذْكُرْ كَذَا , وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنِيمُهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں (انگلیوں) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے)، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان (ترازو) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟ ۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے (یہ کلمات کہے بغیر ہی) سلا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1349]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو کام ایسے ہیں کہ جو مسلمان بندہ بھی ان پر پابندی کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ دونوں کام بہت آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ دو کام یہ ہیں:) پانچ فرض نمازوں میں سے ہر فرض نماز کے بعد دس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، دس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمدللہ اور دس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہے۔ اس طرح زبان پر (پڑھنے میں) یہ کل ڈیڑھ سو کلمات ہیں مگر میزان میں (ثواب کے لحاظ سے) ڈیڑھ ہزار ہیں۔ (کیونکہ ہر نیکی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دس گنا جزا دیتا ہے)۔ میں نے دیکھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو اپنے ہاتھ سے شمار کرتے تھے۔ (دوسرا کام یہ ہے کہ) جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر یا چارپائی پر لیٹے تو تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمدللہ اور چونتیس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہے۔ یہ زبان پر (پڑھنے کے لحاظ سے) سو کلمات ہیں اور میزان میں (ثواب کے لحاظ سے) ایک ہزار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ایسا شخص ہے جو ہر دن رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے؟ (یعنی جب کہ یہ کلمات اتنے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں)۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کوئی آدمی ان دو کاموں کی پابندی کیسے نہیں کر پاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، (اس طرح اس کی توجہ ادھر ادھر ہو جاتی ہے اور وہ نماز کے فوراً بعد اٹھ کر چلا جاتا ہے)۔ اسی طرح سوتے وقت بھی شیطان آکر (ادھر ادھر کے خیالات میں پھنسا دیتا ہے اور) اسے سلا دیتا ہے (جس سے اسے اس ذکر کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 109 (5065)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3410)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 32 (926)، (تحفة الأشراف: 8638)، مسند احمد 2/160، 204، 205 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان تسبیحات کو وقت پر پڑھ لینا کیا مشکل ہے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں