سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَرَأَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ , قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَكَ الْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" , قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" , قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ , قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا , قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی، آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور سورۃ البقرہ جیسی سورت پڑھی، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں کسی کے مرنے سے نہیں گہناتے ہیں، اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، چنانچہ جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو“، لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ میں کسی چیز کو آگے بڑھ کر لے رہے تھے، اور پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹ رہے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا، اور اگر میں اسے لے لیتا تو تم اس سے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا چنانچہ میں نے آج سے پہلے اس بھیانک منظر کی طرح کبھی نہیں دیکھا تھا، اور میں نے اہل جہنم میں زیادہ تر عورتوں کو دیکھا“، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”ایسا ان کے کفر کی وجہ سے ہے“، پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”(نہیں بلکہ) وہ شوہر کے ساتھ کفر کرتی ہیں (یعنی اس کی ناشکری کرتی ہیں) اور (اس کے) احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرو، پھر اگر وہ تم سے کوئی چیز دیکھے تو وہ کہے گی: میں نے تم سے کبھی بھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1494]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جبکہ لوگ بھی آپ کے ساتھ (نماز میں شامل) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام فرمایا اور سورۂ بقرہ کے برابر قراءت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا جبکہ یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدے کیے، پھر لمبا قیام کیا اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع فرمایا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام فرمایا مگر یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع فرمایا مگر یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اس وقت تک سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں۔ انھیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم یہ صورت حال دیکھو تو اللہ عزوجل کو یاد کیا کرو۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اپنے قیام کے دوران میں کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس سے ایک خوشہ لینے کی کوشش کی تھی اور اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے رہتے، نیز میں نے آگ دیکھی۔ میں نے اس جیسا خوف ناک منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں زیادہ عورتوں کو دیکھا۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کفر کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ ساری زندگی حسن سلوک کرے، پھر وہ تجھ سے کوئی ناگوار چیز دیکھے تو کہے گی: میں نے تجھ سے کبھی کوئی اچھا سلوک نہیں دیکھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 21 (29) مختصراً، ال صلاة 51 (431) مختصراً، الأذان 91 (748) مختصراً، الکسوف 9 (1052)، بدء الخلق 4 (3202) مختصراً، النکاح 88 (5197)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (907)، سنن ابی داود/الصلاة 263 (1189)، (تحفة الأشراف: 5977)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (2)، مسند احمد 1/298، 358، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1569) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه