سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: مَوْعِظَةُ الإِمَامِ النِّسَائَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ الْخُطْبَةِ وَحَثُّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: خطبہ سے فارغ ہو کر امام کا عورتوں کو نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ و خیرات پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1587
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ، يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ" فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ , فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلَقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ".
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، تو آپ نے (وہاں) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے (اور اپنا زیور اتار اتار کر) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1587]
حضرت عبدالرحمن بن عابس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے لیے باہر گئے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں! اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے قربت نہ ہوتی تو میں ایسے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ ہوتا کیونکہ وہ اس وقت بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے اور وہاں نماز پڑھی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے۔ انھیں وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا۔ عورتیں اپنے ہاتھ اپنے حلق کی طرف بڑھا کر زیور اتارنے لگیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 32 (98)، الأذان 161 (863)، العیدین 8 (964)، 19 (977)، الزکاة 21 (1431)، 33 (1449)، تفسیر الممتحنة 3 (4895)، النکاح 125 (5249)، الإعتصام 16 (7325)، سنن ابی داود/الصلاة 250 (1146)، (تحفة الأشراف: 5816)، مسند احمد 1/232، 345، 357، 368، وانظر أیضاً حدیث رقم: 1570 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري