سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْمَرْجُومِ
باب: رجم کئے ہوئے شخص کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1959
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا، فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا" , فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: ”اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا“، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ (کی شریعت کے پاس و لحاظ میں) اپنی جان (تک) قربان کر دی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1959]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جہینہ (قبیلے) کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے اور وہ حاملہ بھی تھی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور فرمایا: ”اس سے حسن سلوک کرنا۔ جب یہ بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ جب اس نے بچہ جن لیا تو وہ اسے لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دیا، اس کے کپڑے اچھی طرح کس کر باندھ دیے گئے (تاکہ بے پردگی نہ ہو)، پھر اسے (آپ کے حکم سے) رجم کیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ اس کا جنازہ پڑھتے ہیں جبکہ اس نے تو زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ مدینے والوں میں سے ستر اشخاص پر تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو پوری آ جائے (ان کی نجات کے لیے کافی ہو) اور اس سے افضل توبہ کیا ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4440، 4441)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10881)، مسند احمد 4/420، 429، 435، 437، 440، سنن الدارمی/الحدود 17 (2370) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم