🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. بَابُ: عَدَدِ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1982
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ وَخَرَجَ بِهِمْ فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی، اور آپ ان کے ساتھ نکلے تو ان کی صف بندی کی، (اور) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1982]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع دی، انہیں لے کر (باہر) نکلے، ان کی صف بندی کی اور جنازے میں چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1973 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1983
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ شَيْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ , فَقَالَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" فَمَاتَتْ لَيْلًا , فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا , فَقَالُوا: كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَى قَبْرَهَا" فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1983]
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ علاقۂ عوالی میں ایک عورت بیمار ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی اور عیادت بہت زیادہ فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت کی عیادت کے موقع پر) فرمایا: جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ وہ رات کو فوت ہوئی تو انہوں نے (خود ہی جنازہ پڑھ کر) اسے دفن کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ کی۔ جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے (پوری صورتِ حال گوش گزار کی اور) عرض کیا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے، اس کا جنازہ پڑھا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عوالی مدینہ سے جنوب میں بلندی پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1984
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ" صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا، وَقَالَ: كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کا جنازہ پڑھا تو اس پر پانچ تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعض اوقات) پانچ تکبیریں بھی کہی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 23 (961)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3197)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1023)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 25 (1505)، (تحفة الأشراف: 3671)، مسند احمد 4/367، 368، 370، 371، 372 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں