سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب : عدد التكبير على الجنازة
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1984
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ" صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا، وَقَالَ: كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کا جنازہ پڑھا تو اس پر پانچ تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعض اوقات) پانچ تکبیریں بھی کہی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 23 (961)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3197)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1023)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 25 (1505)، (تحفة الأشراف: 3671)، مسند احمد 4/367، 368، 370، 371، 372 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1984 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1984
1984۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، فائدہ حدیث: 1982۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1984]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1984 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري