🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. بَابُ: مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک کو دفن کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2008
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ؟ قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا (ابوطالب) مر گئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے (نہانے کا) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2008]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (جب میرے والد ابو طالب فوت ہوئے تو) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ کے گم کردہ راہ چچا فوت ہو گئے ہیں۔ اب انھیں کون (زمین میں) چھپائے (دفن کرے) گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اپنے والد کو (زمین میں) چھپاؤ (دفن کرو) اور میرے پاس واپس آنے سے پہلے کوئی اور کام نہ کرنا۔ میں ان کو دفنانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا۔ میں نے غسل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے (صبر و تحمل کی) دعا کی لیکن وہ دعا مجھے یاد نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 190 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں