🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
556. حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17789
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ فِي الْإِسْلَامِ، فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ، لَمْ يُغْنِينَ عَنْهُ شَيْئًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ" .
حضرت زیاد بن نعیم حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے اسلام میں چار چیزیں فرض قرار دی ہیں، اگر کوئی آدمی ان میں سے تین پر بھی عمل کرلے تو اسے ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا تاآنکہ وہ ان سب کو اکٹھا لے کر آئے، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17789]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ثم إن الحديث مرسل، زياد بن نعيم تابعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
557. بَقِيَّةُ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17790
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسب کر کے کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جو انہوں نے نہ کہی ہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے، وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنا لے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17790]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17791
وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي، يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِن اللَّيْلَ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّذِينَ وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ يَسْأَلُنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي، فَهُوَ لَهُ" .
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک شخص رات کے وقت بیدار ہو کر اپنے آپ کو وضو کے لئے تیار کرتا ہے، اس وقت اس پر کچھ گرہیں لگی ہوتی ہیں، چنانچہ وہ وضو کرتا ہے، جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، سر کا مسح کرتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور جب پاؤں دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو نظر نہیں آتے کہ میرے اس بندے کو دیکھو جس نے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کیا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا، وہ اسے ملے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17791]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17792
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد معوذات (جن سورتوں میں قل اعوذ کا لفظ آتا ہے) پڑھا کروں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17792]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17793
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا، لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے، وہ سوار ہوجائے اور قربانی کرلے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17793]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17794
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ هَمَّارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ رَبُّكُمْ: أَتَعْجَزُ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ تُصَلِّيَ أَوَّلَ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ" .
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدمی! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخر تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17794]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17795
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: صَحِبَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ لَا يَؤُمُّنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَهُ رَحِمَكَ اللَّهُ، أَلَا تَؤُمُّنَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ، فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ" .
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ وسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17795]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن عاصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17796
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُجْهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْمُجْهِرِ بِالصَّدَقَةِ" .
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17796]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
558. بَقِيَّةُ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17797
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُصَبِّحٍ، أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ شَكَّ أَبُو بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ، فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي؟" قَالُوا: قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ. قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعًا" .
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے، ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے، مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے، طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17797]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
559. حَدِيثُ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17798
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فقال له النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا عَامِرٍ، أَلَا غَيَّرْتَ؟!" فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيْنَ ذَهَبْتُمْ! إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ" .
حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس میں ان کا ایک آدمی مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عامر! تمہیں غیرت نہ آئی، ابو عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر سنادی اے ایمان والو! اپنے نفس کا خیال رکھنا اپنے اوپر لازم کرلو، اگر تم ہدایت پر ہوئے تو کسی کے بھٹکنے سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا تم کہاں جا رہے ہو؟ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اہل ایمان! اگر تم ہدایت پر ہوئے تو گمراہ کافر نہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17798]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، حديث على بن مدرك عن الصحابة منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں