مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
551. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17779
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ رَهْطِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: دَعَا أَعْرَابِيًّا إِلَى طَعَامٍ وَذَلِكَ بَعْدَ النَّحْرِ بِيَوْمٍ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ : دَعَا رَجُلًا إِلَى طَعَامٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ" .
جعفر بن مطلب جو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گروہ میں تھے نے ایک دیہاتی کو کھانے کی دعوت دی، یہ واقعہ گیارہ ذی الحجہ کا ہے، اس دیہاتی نے جواب دیا کہ میں روزے سے ہوں، جعفر نے اس سے کہا کہ ایک مرتبہ اسی دن حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی تھی اور اس نے یہی جواب دیا تھا کہ میں روزے سے ہوں، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے اس دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17779]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17780
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ الْوَفَاةُ بَكَى، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ: لِمَ تَبْكِي، أَجَزَعًا عَلَى الْمَوْتِ؟ فَقَالَ:" لَا وَاللَّهِ، وَلَكِنْ مِمَّا بَعْدُ". فَقَالَ لَهُ: قَدْ كُنْتَ عَلَى خَيْرٍ. فَجَعَلَ يُذَكِّرُهُ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُتُوحَهُ الشَّامَ. فَقَالَ عَمْرٌو: " تَرَكْتَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنِّي كُنْتُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَطْبَاقٍ لَيْسَ فِيهَا طَبَقٌ إِلَّا قَدْ عَرَفْتُ نَفْسِي فِيهِ كُنْتُ أَوَّلَ شَيْءٍ كَافِرًا، فَكُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَوْ مِتُّ حِينَئِذٍ وَجَبَتْ لِي النَّارُ، فَلَمَّا بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْهُ، فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَاجَعْتُهُ فِيمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ، فَلَوْ مِتُّ يَوْمَئِذٍ، قَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لِعَمْرٍو، أَسْلَمَ وَكَانَ عَلَى خَيْرٍ، فَمَاتَ فَرُجِيَ لَهُ الْجَنَّةُ. ثُمَّ تَلَبَّسْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالسُّلْطَانِ وَأَشْيَاءَ، فَلَا أَدْرِي عَلَيَّ أَمْ لِي. فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيَّ وَلَا تُتْبِعْنِي مَادِحًا وَلَا نَارًا، وَشُدُّوا عَلَيَّ إِزَارِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ، وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا، فَإِنَّ جَنْبِيَ الْأَيْمَنَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِالتُّرَابِ مِنْ جَنْبِي الْأَيْسَرِ، وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا، فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا، أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا تو ان پر گریہ طاری ہوگیا، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا موت سے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے جوابا فرمایا بخدا! موت سے نہیں، بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات سے، صاحبزادے نے کہا کہ آپ تو خیر پر قائم رہے، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور فتوحات شام کا تذکرہ کیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم نے سب سے افضل چیز تو چھوڑ ہی دی یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی میری تین حالتیں رہی ہیں اور ہر حالت میں میں اپنے متعلق جانتا ہوں، سب سے پہلے میں کافر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام لوگوں میں انتہائی سخت تھا، اگر میں اسی حال میں مرجاتا تو میرے لئے جہنم واجب ہوجاتی، جب میں نے نبی سے بیعت کی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام لوگوں کی نسبت زیادہ حیاء کرتا تھا، اسی وجہ سے میں نے نگاہیں بھر کر، کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا اور اپنی خواہشات میں بھی کبھی انہیں جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر میں اس زمانے میں فوت ہوجاتا تو لوگ کہتے کہ عمرو کو مبارک ہو، اس نے اسلام قبول کیا، وہ خیر پر تھا، اسی حال میں فوت ہوگیا، امید ہے کہ اسے جنت نصیب ہوگی۔ پھر میں حکومت اور دوسری چیزوں میں ملوث ہوگیا، اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ میرے لئے باعث وبال ہے یا باعث ثواب، لیکن جب میں مرجاؤں تو تم مجھ پر مت رونا، کسی تعریف کرنے والے کو یا آگ کو جنازے کے ساتھ نہ لے جانا، میرا تہبند مضبوطی سے باندھ دو کہ مجھ سے جواب طلبی ہوگی، مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا اور سب طرف بکھیر دینا کیونکہ دایاں پہلو بائٰیں پہلو سے زیادہ حق نہیں رکھتا، میری قبر پر کوئی لکڑی یا پتھر نہ گاڑنا اور جب تم مجھے قبر کی مٹی میں چھپا کر فارغ ہوجاؤ تو اتنی دیر قبر پر رکنا کہ جس میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کے ٹکڑے بنا لئے جائیں تاکہ میں تم سے انس حاصل کرسکوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17780]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 121، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17781
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَ: جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا هَذَا الْجَزَعُ" وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ؟" قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، قَدْ كَانَ ذَلِكَ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ ذَلِكَ، أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي،" وَلَكِنِّي أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا ابْنُ سُمَيَّةَ، وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ". فَلَمَّا حَدَّثَهُ وَضَعَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا، وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مَغْفِرَتُكَ. وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ .
ابو نوفل کہتے ہیں کہ موت کے وقت حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو پوچھا اے ابو عبداللہ! یہ کیسی گھبراہٹ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو اپنے قریب رکھتے تھے اور آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے؟ انہوں نے فرمایا بیٹا! یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں، بخدا! میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار رضی اللہ عنہ سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، یہ حدیث بیان کر کے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھے اور کہنے لگے اے اللہ! تو نے ہمیں حکم دیا، ہم نے اسے چھوڑ دیا، تو نے ہمیں منع کیا اور ہم وہ کام کرتے رہے اور تیری مغفرت کے علاوہ کوئی چیز ہمارا احاطہ نہیں کرسکتی، آخر دم تک پھر وہ یہی کلمات کہتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17781]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
552. حَدِيثُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17782
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا هُوَ يَمْشِي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ"، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ. فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ، يَا عَمْرُو"، وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو، فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ"، ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِأَربع أَصَابعَ من تحت الأربعِ الأُوَلِ، ثُمَّ قال:" يا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ"، ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ، فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ" .
حضرت عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کہیں جا رہے تھے، ان کا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب پہنچ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی پکڑ کر یہ کہہ رہے تھے اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری پنڈلیاں بڑی پتلی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرو! اللہ نے ہر چیز کو بہترین انداز میں تخلیق فرمایا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے ماریں اور فرمایا عمرو! یہ ہے تہبند باندھنے کی جگہ، پھر اس کے نیچے ہاتھ رکھ کر چار انگلیان ماریں اور فرمایا عمرو! یہ ہے تہبند باندھنے کی جگہ، پھر تیسری مرتبہ اس کے نیچے چار انگلیاں رکھ کر بھی یہی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17782]
الحكم على الحديث:
صحيح، القاسم بن عبدالرحمن لم يروه عن عمرو الأنصاري
553. حَدِيثُ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17783
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ ، رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ: يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ" .
حضرت قیس جذامی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کو اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی چھ انعامات دے دیئے جاتے ہیں، اس کا ہر گناہ معاف کردیا جاتا ہے، جنت میں اسے اپنا ٹھکانہ نظر آجاتا ہے، حور عین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے، فزع اکبر سے اسے محفوظ کردیا جاتا ہے، عذاب قبر سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17783]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وقد اختلف فيه على كثير ابن مرة
554. حَدِيثُ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17784
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِنَبَةَ ، قَالَ سُرَيْجٌ: وَلَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا"، عَسَلَهُ، قِيلَ: وَمَا عَسَلُهُ؟ قَالَ:" يَفْتَحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ" .
حضرت ابو عنبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے عسل کردیتا ہے کسی نے پوچھا کہ عسل سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے اس کے لئے عمل صالح کے دروازے کھول دیتا ہے، پھر اس پر اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17784]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، بقية بن الوليد ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وأبو عنبة مختلف فى صحبته
حدیث نمبر: 17785
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: رَأَيْتُ سَبْعَةَ نَفَرٍ خَمْسَةً قَدْ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاثْنَيْنِ قَدْ أَكَلَا الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَلَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا اللَّذَانِ لَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَبُو عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيُّ، وَأَبُو فَاتِحٍ الْأَنْمَارِيُّ .
شرحبیل بن مسلم خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سات آدمیوں کی زیارت کی ہے جن میں سے پانچ کو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف حاصل ہے اور دو آدمی وہ تھے جنہوں نے زمانہ جالیت میں خون پیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہیں پاسکے، ان آخری دو آدمیوں کے نام ابو عنبہ خولانی اور ابو فالج انماری ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17785]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17786
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ الشُّهَدَاءُ، فَذَكَرُوا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَاءَ، فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ من خَلْقِهِ، قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا" .
ایک مرتبہ حضرت ابو عنبہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں شہداء کا تذکرہ ہو رہا تھا، لوگوں نے پیٹ یا طاعون کی بیماری اور نفاس کی حالت میں مرنے والوں کا ذکر بھی کیا تو ابو عنبہ رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمین میں اللہ کے شہداء وہ لوگ ہوتے ہیں جو امانت دار ہوں خواہ قتل ہوں یا طبعی طور پر فوت ہوجائیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17786]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17787
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْرَانِيُّ حِمْصِيٌّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ زُرْعَةَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ بِغَرْسٍ يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ" .
حضرت ابوعنبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس دین میں پودے اگاتا رہے گا جنہیں وہ اپنی اطاعت کے کاموں میں استعمال کرتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17787]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
555. حَدِيثُ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17788
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيْرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، فَذَكَرَ حَدِيثًا. حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْفَتَى سَمُرَةُ، لَوْ أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ، وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ" . فَفَعَلَ ذَلِكَ سَمُرَةُ، أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ، وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ.
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمرہ بن فاتک کتنا اچھا آدمی ہے اگر وہ اپنے سر کے بال کاٹ لے اور تہبند اچھی طرح باندھ لے، حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ اپنے بال کاٹ لئے اور تہبند اچھی طرح لیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17788]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن لولا عنعنة هشيم، وروي هذا الحديث فى حق خريم بن فاتك أخي سمرة، وهو المحفوظ