🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
548. حَدِيثُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17749
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أُصْبَعِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُ يَدَهُ بِعُودٍ مَعَهُ، فَغَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ، فَرَمَى بِهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَهُ فِي أُصْبَعِهِ، فَقَالَ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنادیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17749]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد ، وقد خولف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17750
حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَعَفَّانُ ، وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، أَفَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ، وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذَكِّ وَكُلْ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَقَتَلَ، فَكُلْ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو اور کھالو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھالو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17750]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17751
حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: جَلَسَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ غَفَلَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَمَى الرَّجُلُ بِخَاتَمِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ خَاتَمُكَ؟ قَالَ: أَلْقَيْتُهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَظُنُّنَا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنادیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17751]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17752
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قومٍ أَهْلِ كِتَابٍ، أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ وَإِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَصْلُحُ؟ قَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَإِنْ صِدْتَ بِقَوْسِكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ، فَكُلْ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو اور کھالو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھالو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17752]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، خ: 5478، م: 1930، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
549. حَدِيثُ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ: لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بالشام، خطب عمرو بن العاص الناس، فقال: إن هذا الطاعون رجس، فتفرقوا عنه في هذه الشعاب وفي هذه الأودية. فبلغ ذلك شرحبيل ابن حسنة ، قَالَ: فَغَضِبَ، فَجَاءَ وَهُوَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقٌ نَعْلَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ:" صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ" .
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17753]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد اضطرب فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17754
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ شُفْعَةَ ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ، فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّهُ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ ، فَقَالَ:" لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، إِنَّهُ دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَرَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، فَاجْتَمِعُوا لَهُ وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ". فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَقَالَ: صَدَقَ .
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17754]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17755
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ شُرَحْبِيلَ ابْنَ شُفْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّهُ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ. وَقَالَ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ : إِنِّي قَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ جَمَلِ أَهْلِهِ. وَرُبَّمَا، قَالَ شُعْبَةُ: أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، وَإِنَّهُ قَالَ: " إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، فَاجْتَمِعُوا وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ". قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَقَالَ: صَدَقَ .
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17755]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17756
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ: فِي الطَّاعُونِ فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّيْلِ، مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ، وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا أَخْطَأَتْهُ، وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ. فَقَالَ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ : " إِنَّ هَذَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ" .
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17756]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
550. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17757
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ، قَالَ: فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا، قَالَ: فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ، فَأَكْفِئُوهَا" فَأَكْفَأْنَاهَا.
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، ابھی وہ ہانڈیوں میں پک رہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو، لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں الٹا دیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17757]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17758
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ، قَالَ: فَوَضَعَهَا، ثُمَّ جَلَسَ، فَبَالَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ! قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَيْحَكَ أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17758]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں