🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
609. حَدِيثُ دَيْلَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، أَنَّ دَيْلَمًا أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ، وَإِنَّا نَشْرَبُ شَرَابًا نَتَقَوَّى بِهِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" " هَلْ يُسْكِرُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، قَالَ:" هَلْ يُسْكِرُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَلَا تَقْرَبُوهُ". قَالَ: فَإِنَّهُمْ لَنْ يَصْبِرُوا عَنْهُ، قَالَ:" فَمَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَنْهُ فَاقْتُلُوهُ" .
حضرت دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں، سردی کی شدت دور کرنے کے لئے ہم لوگ گیہوں کی ایک شراب سے مدد لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے پینے سے نشہ چڑھتا ہے؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پینے سے منع فرما دیا، انہوں نے کہا کہ لوگ اسے پینے سے باز نہیں آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ باز نہ آئیں تو تم انہیں قتل کردو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18036]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
610. حَدِيثُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18037
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ،، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ، فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ، وَأَسْلَمْنَا، فَمَنْ وَلِيُّنَا؟ قَالَ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ" قَالُوا: حَسْبُنَا رَضِينَا.
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے، ان میں وہ خود بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی بیعت اور قبول اسلام کی اطلاع دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت و اسلام کو قبول فرما لیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کس قبیلے سے ہے اور ہم جہاں سے آئے ہیں وہ بھی آپ کے علم میں ہے، اب ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو ہمارا ولی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہنے لگے کہ ہمارے لئے یہ کافی ہے اور ہم اس پر راضی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18037]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين الأوزاعي والديلمي، والواسطة بينهما راو ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18038
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ هَيْثَمٌ: مَرَّةً عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ، فَمَنْ وَلِيُّنَا؟ قَالَ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ" .
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تلعق کس قبیلے سے ہے اور ہم جہاں سے آئے ہیں وہ بھی آپ کے علم میں ہے، اب ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو ہمارا ولی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18038]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18039
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، أَخْبَرَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَةً عُرْوَةً، كَمَا يُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً" .
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وقت ایسا بھی ضرور آئے گا جب اسلام کی رسی کا ایک ایک دھاگہ نکال نکال کر توڑ دیا جائے گا جیسے عام رسی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18039]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، ضمرة بن ربيعة اضطرب فى هذا الحديث، فرواه هنا مرفوعاً، ورواه بنحوه عن عبدالله بن فيروز الديلمي قوله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18040
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، أَنَّ أَبَاهُ فَيْرُوزَ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ" . وقَالَ يَحْيَى مَرَّةً حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامَ.
ضحاک بن فیروز کہتے ہیں کہ ان کے والد فیروز رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کو جسے تم چاہو طلاق دے دو۔ ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18040]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18041
حَدَّثَنَا مَوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ،" فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا" .
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب اسلام قبول کیا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کو جسے تم چاہو طلاق دے دو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18041]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18042
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ، وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَمَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: " تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا". قَالَ: فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا؟ قَالَ:" تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَتُنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ، وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَمَنْ وَلِيُّنَا؟ قَالَ:" اللَّهُ وَرَسُولُهُ" . قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ.
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ انگوروں والے ہیں، اب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوگیا ہے، لہذا ہم اپنے انگوروں کا کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی کشمش بنا لو، میں نے عرض کیا کہ ہم کشمش کا کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کے وقت پانی میں بھگو کر رات کو پی لو اور رات کے وقت پانی میں بھگو کر صبح پی لو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کن لوگوں سے ہے اور آپ کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ آپ کے پاس کن لوگوں کے درمیان ہم اترے ہیں، یہ بتائیے! کہ ہمارا ولی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے یہ کافی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18042]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
611. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18043
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مسلمان کے لئے قیامت کے دن سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18043]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
612. حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18044
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ". ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ .
حضرت ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ فرمایا لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کے برابر ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18044]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أيمن بن خريم مختلف فى صحبته، وفاتك بن فضالة مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
613. حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18045
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" .
حضرت ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہذا تم انہیں ابتداء میں سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف وعلیکم کہنا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18045]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لكن من حديث أبى بصرة الغفاري، وهذا الإسناد قد أخطأ فيه ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں