🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
607. حَدِيثُ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18026
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من أبى كبشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18027
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ أَرْبَعَةٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من أبى كبشة، وتصريح سالم بالسماع غير محفوظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18028
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ:" أَجَلْ، مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ، فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا، فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا، فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ" .
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک اپنے گھر میں چلے گئے، جب باہر آئے تو غسل کیا ہوا تھا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ابھی میرے پاس سے ایک عورت گذر کرگئی تھی، میرے دل میں عورت کی خواہش پیدا ہوئی اس لئے میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کی، اگر تمہارے ساتھ ایسی کیفیت پیش آئے تو تم بھی یونہی کیا کرو، کیونکہ تمہارا بہترین عمل حلال طریقے سے آتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18028]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ. قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ؟" فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" أَفَلَا أُنْبِئْكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ" ..
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر کچھ لوگ تیزی سے قوم ثمود کے کھنڈرات میں جانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کروا دی کہ نماز تیار ہے ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور فرما رہے تھے تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا؟ ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان پر تعجب کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات نہ بتاؤں؟ تم ہی میں کا ایک آدمی تمہیں ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتا ہے، لہذا استقامت اور سیدھا راستہ اختیار کرو، کیونکہ اللہ کو تمہارے عذاب میں مبتلا ہونے کی کوئی پروا نہیں ہوگی اور عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو کسی بھی چیز کے ذریعے اپنا دفاع نہیں کرسکے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18029]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن أبى كبشة لين الحديث إذا تفرد، وإسماعيل بن أوسط متكلم فيه، والمسعودي مختلط، لكن روى عنه غير واحد قبل أختلاطه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18030
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ قَوْمٌ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18031
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ، وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ". قَالَ:" فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّتِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: فَإِنَّهُ مَا نَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلَمَةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا، وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ لَهُ بَابَ فَقْرٍ. وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، فَإِنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ. قَالَ: فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ. قَالَ: وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا، وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا، قَالَ: فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ. قَالَ: وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقَّهُ، فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ. قَالَ: وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: هِيَ نِيَّتُهُ، فَوِزْرُهُمَا فِيهِ سَوَاءٌ" .
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں اور ایک حدیث ہے جو میں تم سے بیان کرتا ہوں، سو اسے یاد رکھو، وہ تین چیزیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں وہ یہ ہیں کہ صدقہ کی وجہ سے کسی انسان کا مال کم نہیں ہوتا جس شخص پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں مزید اضافہ کر دے گا اور جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور وہ حدیث جو میں تم سے بیان کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کی ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہوا اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، اس کا درجہ سب سے اونچا ہے، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اپنے رب سے ڈرے، نہ صلہ رحمی کرے اور نہ اللہ کا حق پہچانے اس کا درجہ سب سے بدترین ہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے نہ مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ گر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18031]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، يونس بن خباب مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ، أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ: أَطْرِقْنِي مِنْ فَرَسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَطْرَقَ مُسْلِمًا فَعَقَبَ لَهُ الْفَرَسُ، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ابوعامر ہوزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے پاس حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ مجھے اپنا گھوڑا عاریۃ دے دو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص عاریۃ اپنا گھوڑا کسی کو دے دے اور اس کا گھوڑا مادہ گھوڑی کو حاملہ بنا دے تو دینے والے کو ستر گھوڑوں پر اللہ کے راستہ میں لوگوں کو سوار کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18032]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
608. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18033
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَسَنٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ إِمَامٍ أَوْ وَالٍ يُغْلِقُ بَابَهُ دُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَالْخَلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، إِلَّا أَغْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ" . قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ.
حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے معاویہ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو حکمران یا والی ضرورت مندوں، فقیروں اور مسکینوں کے سامنے اپنے دروازے بند رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات اور فقرومسکنت کے سامنے آسمان کے دروازے بند کردیتا ہے، چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک آدمی کو مقرر کردیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18033]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
609. حَدِيثُ دَيْلَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18034
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّيْلَمُ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ، وَإِنَّا لَنَسْتَعِينُ بِشَرَابٍ يُصْنَعُ لَنَا مِنَ الْقَمْحِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُسْكِرُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَلَا تَشْرَبُوهُ". فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُسْكِرُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلَا تَشْرَبُوهُ. فَأَعَادَ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُسْكِرُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَلَا تَشْرَبُوهُ". قَالَ: فَإِنَّهُمْ لَا يَصْبِرُونَ عَنْهُ. قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَصْبِرُوا عَنْهُ فَاقْتُلْهُمْ" .
حضرت دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں، سردی کی شدت دور کرنے کے لئے ہم لوگ گیہوں کی ایک شراب سے مدد لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے پینے سے نشہ چڑھتا ہے؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پینے سے منع فرما دیا، تین مرتبہ یہی سوال و جواب ہوئے، چوتھی مرتبہ انہوں نے کہا کہ لوگ اسے پینے سے باز نہیں آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ باز نہ آئیں تو تم انہیں قتل کردو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18034]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18035
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ، نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا. قَالَ: " هَلْ يُسْكِرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاجْتَنِبُوهُ". قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ:" هَلْ يُسْكِرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاجْتَنِبُوهُ". قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ. قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ" .
حضرت دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں، سردی کی شدت دور کرنے کے لئے ہم لوگ گیہوں کی ایک شراب سے مدد لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے پینے سے نشہ چڑھتا ہے؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پینے سے منع فرما دیا، انہوں نے کہا کہ لوگ اسے پینے سے باز نہیں آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ باز نہ آئیں تو تم انہیں قتل کردو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18035]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعنه، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں