🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
623. حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18066
وَقَالَ: وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، أَلِمُضَرَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ، وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ. قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيعًا مَرِيئًا، طَبَقًا غَدَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ". قَالَ: فَأُحْيُوا. قَالَ: فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ. قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا .
اور ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قبیلہ مضر کے لئے اللہ سے بارش کی دعاء کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بڑے جری ہو، کیا مضر والوں کے لئے دعا کروں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی، آپ کو عطاء فرمایا: آپ کی دعاء قبول فرمائی، (آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، ان کے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ! ہمیں خوب برسنے والی بارش سے سیراب فرما جو زمین کو پانی سے بھر دے، خوب برسنے والی ہو، دیر سے نہ برسے، نفع بخش ہو، زحمت نہ بنے، اس دعاء کے بعد نماز جمعہ نہیں ہونے پائی تھی، کہ بارش شروع ہوگئی، کچھ عرصے بعد وہ لوگ بارش کی کثرت کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ گھر منہدم ہوگئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے اور فرمایا اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا، ہمارے اوپر نہ برسا، چنانچہ بادل دائیں بائیں بکھر گئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18066]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سالم بن أبى الجعد لم يسمع من شرحبيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18067
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ ، فَقَالَ: لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْلَسَ النَّاسَ، فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مُرَجِّلًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ، هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى" . قَالَ: فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ.
ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18067]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي البُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، قَالَ: قَامَتْ خُطَبَاءُ بِإِيلِيَاءَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَتَكَلَّمُوا، وَكَانَ آخِرَ مَنْ تَكَلَّمَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِتْنَةً، فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنَّعٌ. فَقَالَ: " هَذَا يَوْمَئِذٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى الْحَقِّ وَالْهُدَى". فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" هَذَا". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18068]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
624. حَدِيثُ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتْعِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18069
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: الْمُتْعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَخْلًا، قَالَ: " أَدِّ الْعُشُورَ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْمِهَا لِي. قَالَ: فَحَمَاهَا لِي . قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ احْمِ لِي جَبَلَهَا. قَالَ: فَحَمَى لِي جَبَلَهَا.
حضرت ابو سیارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس شہد کے بہت سے چھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا عشر ادا کیا کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پہاڑ میرے لئے مخصوص فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میرے لئے مخصوص فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18069]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان لم يدرك أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
625. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18070
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَفْعَلُ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ہم ایسا کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18070]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
626. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18071
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ حَاجِبِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ، وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ، فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ" .
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے کھلایا پلایا، سیراب کیا اور پیٹ بھرا، تیرا شکر ہے جس میں کوئی ناشکری نہیں، اسے ترک بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ تجھ سے استغنا برتا جاسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18071]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عامر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
627. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18072
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے، وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا، حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18072]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
628. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18073
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18073]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
629. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18074
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ" ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: آيًا مِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی قرآن کریم کے کچھ حصے (یا کچھ آیات) کی تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18074]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
630. زِيَادَةُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18075
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، قَالَ:" فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوْ الْقَدَحِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ، فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْوَضُوءَ". قَالَ:" فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ، فَكَفِّهَا، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ، فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ، فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى قَدَمِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ" .
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی نیت سے نکلا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے ہیں تو میں پانی کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا اور راستے میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وضو کا پانی حاضر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا اور انہیں دھو لیا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی بہایا اور سر کا مسح کرلیا، پھر مٹھی بھر پانی ہاتھ میں لے کر پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ سے ملا، پھر آکر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18075]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں