🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
447. حَدِیث اَوسِ بنِ اَوس عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16961
قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا"
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کا دن آنے پر جب تم میں سے کوئی شخص غسل کرے، پھر پہلے وقت روانہ ہو، خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16961]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16962
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، فَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ، وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ، صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا" .
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کرے، پھر پہلے وقت روانہ ہو، خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16962]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16963
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ غَدَا وَابْتَكَرَ"
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16963]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
448. حَدِیث سَلَمَةَ بنِ نفَیل السَّكونِیِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16964
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعَتُ سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ:" بِمِسْخَنَةٍ"، قَالُوا: فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِهِ؟ قَالَ: " رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا: مَتَى، وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَبَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ"
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے پاس بھی آسمان سے کھانا آیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا“، پوچھا: کیا اس میں سے کچھ باقی بھی بچا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پوچھا: وہ کیا ہوا؟ فرمایا: ”اسے اٹھا لیا گیا اور مجھ پر وحی بھیجی گئی ہے کہ میں تم سے رخصت ہونے والا ہوں اور زیادہ دیر تک تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور میرے بعد تم بھی کچھ عرصہ رہو گے بلکہ تم اتنا عرصہ رہو گے کہ کہنے لگو موت کب آئے گی؟ پھر تم پر ایسے مصائب آئیں گے کہ تم ایک دوسرے کو خود ہی فناء کر دو گے اور قیامت سے پہلے کثرت اموات کا نہایت شدید سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آئیں گے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16964]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16965
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَسَمْتُ الْخَيْلَ، وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ، وَوَضَعَتْ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، قُلْتُ: لَا قِتَالَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، يُزِيغُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، وَيَرْزُقُهُمْ اللَّهُ مِنْهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ، أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو چرنے کے لیے بھیج دیا ہے، ہتھیار اتار دیئے ہیں اور جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب قتال نہ ہو گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تو قتال کا وقت آیا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر ہمیشہ غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو اٹھائے گا، وہ ان سے قتال کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں وہاں سے رزق عطا فرمائے گا، حتی کہ جب اللہ کا حکم آئے گا تو وہ اسی حال میں ہوں گے، یاد رکھو! مسلمانوں کا خون بہنے کی جگہ شام ہے اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت رکھ دی گئی ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16965]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون ذكر النجدة، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسى لم يدرك كثير ابن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
449. حَدِیث یَزِیدَ بنِ الاَخنَسِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16966
قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ، فَيَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا، فَأَقُومَ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ، فَيَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ" ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتُكَ النَّجْدَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ؟ وَسَقَطَ بَاقِي الْحَدِيثِ
سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آپس میں آگے بڑھنے کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، سوائے دو آدمیوں میں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی دولت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہو اور اس کے احکامات کی پیروی کرتا ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ نعمت عطا فرمائی ہوتی تو میں بھی اسی طرح دن رات اس کی تلاوت کرتا اور دوسرا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت عطا فرمایا ہو اور وہ اسے صدقہ و خیرات کر کے خرچ کرتا ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر کہے کاش! اللہ نے مجھے بھی اس طرح مال عطا فرمایا ہوتا جیسے فلاں شخص کو دیا ہے تو میں بھی اسی طرح صدقہ و خیرات کرتا“، ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر کسی آدمی میں ذاتی شرافت ہو۔۔۔ امام احمد کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ حدیث کا بقیہ حصہ ساقطہ ہو گیا ہے، میں نے یہ حدیث اپنے والد کے مسودے میں پائی تھی جو ان کے ہاتھ سے ہی لکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16966]

الحكم على الحديث:
حديث حسن على قول من عد غضيفا صحابيا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
450. حَدِیث غضَیفِ بنِ الحَارِثِ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16967
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَوْ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍِ، قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ مَا نَسِيتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں، ہر چیز ہی بھول جاؤں (ممکن ہے) لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16967]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16968
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍ ، أَوْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ لَمْ أَنْسَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں، ہر چیز ہی بھول جاؤں (ممکن ہے) لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پہ رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16968]

الحكم على الحديث:
أثر إسناده حسن، وإبهام المشيخة لا يضر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16969
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي الْمَشْيَخَةُ ، أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ يس؟ قَالَ: فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ، قَالَ: وَكَانَ الْمَشْيَخَةُ يَقُولُونَ: إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا ، قَالَ صَفْوَانُ: وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ المَعْمَر عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
متعدد مشائخ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے مرض الموت میں) موجود تھے، جب ان کی روح نکلنے میں دشواری ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تم میں سے کسی نے سورہ یٰسین پڑھی ہے؟ اس پر صالح بن شریح سکونی سورہ یٰسین پڑھنے لگے، جب وہ اس کی چالیسویں آیت پر پہنچے تو ان کی روح قبض ہو گئی اس وقت سے مشائخ یہ کہنے لگے کہ جب میت کے پاس سورہ یٰسین پڑھی جائے تو اس کی روح نکلنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن معتمر نے بھی ابن معبد کے پاس سورہ یٰسین پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16969]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله، وبقية بن الوليد مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16970
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ مَرْوَانَ، فَقَالَ: يَا أَبَا أَسْمَاءَ، إِنَّا قَدْ جْمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ، قَالَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتِكُمْ عِنْدِي، وَلَسْتُ مُجِيبَكَ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنَ السُّنَّةِ" ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ
سیدنا غضیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے پاس عبدالملک بن مروان نے پیغام بھیجا کہ اے ابواسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر دیا ہے پوچھا: کون سی چیزیں؟ اس نے بتایا کہ جمعہ کے دن منبر پر رفع یدین کرنا اور نماز فجر اور عصر کے بعد وعظ گوئی، سیدنا غضیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ دونوں چیزیں تمہاری سب سے مثالی بدعت ہیں، میں تو ان میں سے ایک بات بھی قبول نہیں کرتا عبدالملک نے وجہ پوچھی تو فرمایا: وجہ یہ ہے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو قوم کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے، اس سے اتنی ہی سنت اٹھا لی جاتی ہے، لہٰذا سنت کو مضبوطی سے تھامنا بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16970]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں