مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
445. حَدِیث تَمِیم الدَّارِیِّ
حدیث نمبر: 16951
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16951]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16952
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الطَّبَّاعَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً، وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَتْ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ"
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ «لَا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ وَاحِدً اَحَدً صَمَدً لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدً وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً اَحَدً» کہہ لے، اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16952]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف خليل بن مرة، ولانقطاعه، الأزهر بن عبدالله لم يسمع من تميم الداري
حدیث نمبر: 16953
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِحَيَاتِهِ وَمَوْتِهِ"
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا: جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام قبول کے لے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زندگی اور موت میں دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حقدار اور اس کے قریب ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16953]
الحكم على الحديث:
هذا الحديث له إسنادان، الأول ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى هريرة، والآخر صحيح
حدیث نمبر: 16954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَدَاوُدَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ لِلْمَلَائِكَةِ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ، ثُمَّ الزَّكَاةُ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ"
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہو گی، اگر اس نے اسے مکمل ادا کیا ہو گا تو وہ مکمل لکھ دی جائے گی، ورنہ اللّٰہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں؟ کہ ان کے کے ذریعے فرائض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوٰۃ کے معاملے میں بھی ہو گا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16954]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16955
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ ، زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ، قَالَ: وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ: أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ؟ قَالَ تَمِيمٌ : بَلَى، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا، ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ" .
روح بن زنباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گئے، وہاں پہنچ کر دیکھا کہ وہ خود اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے اہل خانہ وہیں پر تھے، روح کہنے لگے کہ کیا ان میں سے کوئی یہ کام نہیں کر سکتا؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کرے، پھر اسے وہ کھلا دے تو اس لئے ہر دانے کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16955]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16956
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16956]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16957
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ" ، وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ الْخَيْرُ، وَالشَّرَفُ، وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ، وَالصَّغَارُ، وَالْجِزْيَةُ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے، اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے ذلت قبول کر لی جائے، عزت وہ ہو گی جو اللّٰہ اسلام کے ذریعے عطاء کرے گا اور ذلت وہ ہو گی جس سے اللّٰہ کفر کو ذلیل کر دے گا۔“ سیدنا تمیم داری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے تھے کہ اس کی معرفت حقیقی اپنے اہل خانہ میں ہی نظر آئے گی، کہ ان میں سے جو مسلمان ہو گیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت رسوائی اور ٹیکس نصیب ہوئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16957]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، سليمان بن موسى لم يدرك كثير بن مرة
حدیث نمبر: 16958
قَالَ عَبْدِ الله بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنِي أَبِي إِملاءً، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنَ النَّوَادِرِ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ بِمِئَِةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ"
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایک رات میں سو آیتیں پڑھ لے، اس کے لئے ساری رات عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16958]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس، وقد عنعن، وابن المنكدر لم يلق أبا أيوب الأنصاري
446. حَدِیث مَسلَمَةَ بنِ مخَلَّد
حدیث نمبر: 16959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا، سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ"
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے، جو شخص کسی غمزدہ کو نجات دلائے، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16959]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يلق عقبة بن عامر ولا مسلمة بن مخلد
حدیث نمبر: 16960
قَالَ عَبْدِ الله بْنُ أَحْمَدَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنَّ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ بِمِصْرَ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا، وَلَكِنِّي جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ عَبَّادٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً، فَسَتَرَهَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟" فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِهَذَا جِئْتُ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: رَكِبَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى مِصْرَ
مکحول کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ مصر آئے، ان کے اور دربان کے درمیان تکرار ہو رہی تھی کہ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے ان کی آواز سن لی، انہوں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو اندر بلایا۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس ملاقات کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ ایک کام سے آیا ہوں، کیا آپ کو وہ دن یاد ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی عیب کو جانتا ہو اور پھر اسے چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے فرمایا! جی ہاں یاد ہے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اسی حدیث کے خاطر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16960]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح