مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
حدیث نمبر: 16931
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقَّهِْهُّ فِي الدِّينِ، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَّةً قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہو گا، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! میں نے سیدنا معاذ جبل رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا: مالک کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16931]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 71، م: 1037
حدیث نمبر: 16932
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ" ، فَقَامَ مَالِكُ بْنُ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ:" وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ"، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَرَفَعَ صَوْتَهُ: هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا، يَقُولُ:" وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں یا بے یار و مددگار چھوڑ دینے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہو گا“، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! میں سیدنا معاذ جبل رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے فرمایا: مالک کہہ رہے ہیں انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16932]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3641، م: 1037
حدیث نمبر: 16933
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَيْنَا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ وَهُو يَتَوَضَأ، فَقَالَ:" يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَاعْدِلْ"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ابْتُلِيتُ
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ان کے پیچھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ان کی خدمت سنبھالی اور) برتن لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے گئے، ابھی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو مرتبہ ان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں حکو مت ملے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل کرنا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے اسی وقت یقین ہو گیا کہ مجھے کوئی ذمہ داری سونپی جائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16933]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لم يتبين لنا سماع جد عمرو بن يحيى من معاوية
حدیث نمبر: 16934
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَتْ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا، فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَصْنَعُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ، قَالَ: كَأَنَّهُ يَعْنِي الْوِصَالَ
سعید بن مسیّب رحمتہ اللّٰہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”جھوٹ“ کا نام دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16934]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3688، م: 2127
حدیث نمبر: 16935
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: خَطَبَ النَّاسَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ سَبْعَةَ أَشْيَاءَ، وَإِنِّي أُبْلِغُكُمْ ذَلِكَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْهُ، مِنْهُنَّ: النَّوْحُ، وَالشِّعْرُ، وَالتَّصَاوِيرُ، وَالتَّبَرُّجُ، وَجُلُودُ السِّبَاعِ، وَالذَّهَبُ، وَالْحَرِيرُ"
ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ”حمیص“ میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو کے دوران ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کو حرام قرار دیا تھا، میں تم تک وہ پیغام پہنچا رہا ہوں اور میں بھی تمہیں اس سے منع کرتا ہوں، نوحہ، شعر، تصویر، خواتین کا حد سے زیادہ بناؤ سنگھار، درندوں کی کھالیں، سونا اور ریشم۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16935]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وعبدالله بن دينار ضعيف، وأبو حريز مجهول
حدیث نمبر: 16936
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَاللَّهُ يَهْدِي، وَقَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، فَمَنْ بَلَغَهُ مِنِّي شَيْءٌ بِحُسْنِ رَغْبَةٍ، وَحُسْنِ هُدًى، فَإِنَّ ذَلِكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ بَلَغَهُ منِّي شَيْءٌ بِسُوءِ رَغْبَةٍ، وَسُوءِ هَدْيٍ، فَذَاكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللہ ہے، اس لیے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لیے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16936]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو الزاهرية لم يسمع من معاوية
حدیث نمبر: 16937
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَوْزَنِيُّ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَامَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ" ، وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَغَيْرُكُمْ مِنَ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِ
ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہود و نصاریٰ اپنے دین میں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں میں تقسیم ہو جائے گی، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ ایک فرقہ جماعت صحابہ کے نقش قدم پر ہو گا اور میری امت میں کچھ ایسی اقوام بھی آئیں گی جن پر یہ فرقے (اور خواہشات) اس طرح غالب آجائیں گی جیسے کتا کسی پر چڑھ دوڑتا ہے اور اس شخص کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں رہتا جس میں زہر سرایت نہ کر جائے، اللّٰہ کی قسم! اے گروہ عرب! اگر تم اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت پر قائم نہ رہے تو دوسرے لوگ تو زیادہ ہی اس پر قائم نہ رہیں گے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16937]
حکم دارالسلام: إسناده حسن، وحديث افتراق الأمة منه صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 16938
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ مِنْ شَعَرِهِ بِمِشْقَصٍ" ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَلَغَنَا هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16938]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16939
قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَشَارٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، أو أحدهما عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ بِمِشْقَصٍ"
سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16939]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد
445. حَدِیث تَمِیم الدَّارِیِّ
حدیث نمبر: 16940
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللّٰہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16940]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: قبل الحديث: 57، تعليقا، م: 55