🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
800. حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19711
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَن الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ، فَمَرَّتْ بِقَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا، فَهِيَ زَانِيَةٌ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکار ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19711]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19712
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، وَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ تعلیم دلائے بہترین ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اسے بھی دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19712]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19713
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي تَمِيمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ وَكِيعٌ : وَحَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا"، وَقَبَضَ كَفَّهُ .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہوجائے گی یہ کہہ کر انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹھی کی طرح بند کر کے دکھایا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19713]

الحكم على الحديث:
موقوفه صحيح قد اختلف على أبى تميمه فى رفعه ووقفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19714
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا وَصَفَهُ كَانَ يَكُونُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا أَصَابَهُ الشَّيْءُ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ"، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى دَمْثٍ يَعْنِي: مَكَانًا لَيِّنًا فَبَالَ فِيهِ، وَقَالَ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ" .
ابوالتیاح ایک طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جا رہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19714]

الحكم على الحديث:
صحيح الغيره دون قوله: إذا بال أحدكم ... وهذا إسناده ضعيف ، لإبهام الرجل الراوي عنه أبو التياح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19715
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ، فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ: فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي، فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ، وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو تین مرتبہ پیش کیا جائے گا پہلے دو عرضوں میں جھگڑے اور معذرتیں ہوں اور تیسرے عرضے کے وقت اعمال نامے اڑ اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچیں گے کسی کے دائیں ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19715]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19716
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَن مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، إِذَا قَالَتْ النَّائِحَةُ: وَاعَضُدَاهُ، وَانَاصِرَاهُ، وَاكَاسِبَاهُ، جُبِذَ الْمَيِّتُ، وَقِيلَ لَهُ: آَنْتَ عَضُدُهَا؟ آَنْتَ نَاصِرُهَا؟ آَنْتَ كَاسِبُهَا؟" فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، فَقَالَ: وَيْحَكَ، أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ هَذَا! فَأَيُّنَا كَذَبَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَلَا كَذَبَ أَبُو مُوسَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اپنے اوپر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے جب بین کرنے والی کہتی ہے ہائے میرا بازو، ہائے میرا مددگار، ہائے میرا کمانے والا، تو میت کو کھینچ کر پوچھا جاتا ہے کیا واقعی تو اس کا بازو، مددگار اور کمانے والا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19716]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، أسيد بن أبى أسيد لم ينفرد به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19717
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ"، فَقَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ"، قَالُوا: أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ؟ إِنَّا لَنَقْتُلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا"، قَالُوا: وَمَعَنَا عُقُولُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" إِنَّهُ يُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ، وَيُخَلَّفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ، يَحْسَبُ أَكْثَرُهُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ، وَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ" ، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا، إِنْ أَدْرَكَتْنِي وَإِيَّاكُمْ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا، لَمْ نُصِبْ فِيهَا دَمًا وَلَا مَالًا.
راوی اسید بن ابی اسید نے یہ حدیث سن کر کہا سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا؟ تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا ارے کمبخت! میں تجھے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو یہ کہہ رہا ہے، ہم میں سے کون جھوٹا ہے؟ بخدا! میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بول رہا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19717]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19718
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قال: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ ، عَن ابْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَوْ: عَن ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَتَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَتَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُسَوِّرْهَا سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ، وَلَكِنْ الْفِضَّةُ، فَالْعَبُوا بِهَا لَعِبًا" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ یا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اپنے پیارے جسم میں آگ کا چھلا پہننا پسند ہو اسے چاہئے کہ سونے کا چھلا پہن لے جس شخص کو اپنے پیارے جسم پر آگ کا کنگن رکھنا پسند ہو، اسے چاہئے کہ سونے کا کنگن پہن لے، البتہ چاندی کی اجازت ہے اس لئے اسی سے دل لگی کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19718]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطراب أسيد فيه، وقد انفرد به، فمثله لا يحتمل تفرده، وعبدالرحمن بن عبدالله ضعيف وقد أخطأ من جعل حديث أبى موسي شاهدا لحديث أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19719
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ مِنْ رَجُلٍ، أَوْ مِنْ قَوْمٍ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص یا قوم سے خوف محسوس ہوتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! میں تجھے ان کے سینوں کے سامنے کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19719]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، عمران بن داود ضعيف مضطرب فيه، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19720
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قال: " اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص یا قوم سے خوف محسوس ہوتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! میں تجھے ان کے سینوں کے سامنے کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19720]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، إسناده ضعيف، قتادة لم يسمع من أبى بردة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں