🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
800. حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19691
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا نَسِينَاهَا، وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمْدًا، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَكُلَّمَا سَجَدَ .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19691]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا، مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ، وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو کسی کی تعریف (اس کے منہ پر) کرتے ہوئے اور اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تم نے اس کی کمر توڑ ڈالی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19692]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2663، م: 3001
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19693
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ: فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ، وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: أَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ، وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! عبید ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں پر فوقیت عطاء فرما عبید رضی اللہ عنہ غزوہ اوطاس کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے قاتل کو قتل کردیا تھا۔ ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عبید کے قاتل اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19693]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19694
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سَبَقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ، قَالَتْ: كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ، وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ، وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا، فَقَالَتْ: لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ، فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ لَكُمْ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ: هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئیں تو مدینہ منورہ کے کسی راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا حبشہ جانے والی ہو؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ بہترین قوم تھے اگر تم سے ہجرت مدینہ نہ چھوٹتی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تمہارے جاہل کو علم سکھاتے اور ہم لوگ اس وقت اپنے دین کو بچانے کے لئے نکلے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کئے بغیر اپنے گھر واپس نہ جاؤں گی چناچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دو ہجرتیں ہوئیں ایک مدینہ منورہ کی طرف اور دوسری ہجرت حبشہ کی جانب۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19694]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 4230، م: 2503، المسعودي اختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19695
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، يُحَدِّثُ عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا، فَقَالَ: " لِتَكُنْ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون کے ساتھ چلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19695]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19696
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ، فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي، فَأَخْبَرْتُهَا، فَلَمَّا جَاءَهَا، قَالَتْ: عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ، فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا! فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ، فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ تَعَالَى، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَإِنَّهَا عَطَسَتْ، فَحَمَدَتْ اللَّهَ تَعَالَى، فَشَمَّتُّهَا، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمِّتُوهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تُشَمِّتُوهُ" ، فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ام الفضل کے گھر میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ موجود تھے میں بھی وہاں چلا گیا مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے جواب دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس آکر انہیں یہ بات بتائی جب والد صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو آپ کے سامنے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اس خاتون کو چھینک آئی تو جواب دے دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے صاحبزادے کو جب چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ نہیں کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب بھی دے دیا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص چھینکنے کے بعد الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب بھی مت دو اس پر والدہ نے کہا آپ نے خوب کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19696]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19697
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَن الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19697]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب ابن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19698
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَن الْمُطَّلِبِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى" .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19698]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19699
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا، وَأَبَا مُوسَى، إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا" ، قَالَ: فَكَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فُسْطَاطًا يَكُونُ فِيهِ، يَزُورُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَظُنُّهُ عَن أَبِي مُوسَى .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، چناچہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا خیمہ تھا جس میں وہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19699]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6124، م: 1733، رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19700
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَن زَائِدَةَ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ" ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری بڑھتی ہی چلی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر بڑے رقیق القلب آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھادیں، تم تو یوسف والیاں ہو چناچہ قاصد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طبیبہ ہی میں انہوں نے نماز پڑھائی۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19700]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں