🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
713. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18952
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ ، حَدَّثَنِي مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، أَنَّهُ أَدْرَكَهُ شَيْخًا، قَالَ:" جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءَ، فَجَلَسَ فِي فِنَاءِ الَأُجُمِ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَاسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقِيَ، فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَنَاوَلَنِي، فَشَرِبْتُ، وَحَفِظْتُ أَنَّهُ صَلَّى بِنَا يَوْمَئِذٍ وَعَلَيْهِ نَعْلَاَهِ لَمْ يَنْزِعْهُمَا" .
اہل قباء کے غلام صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس قباء میں تشریف لائے اور کنگروں کے بغیر صحن میں بیٹھ گئے لوگ بھی جمع ہونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر نوش فرمایا میں اس وقت سب سے چھوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پس خوردہ مجھے عطاء فرمادیا جسے میں نے پی لیا مجھے یہ بھی یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے دن ہمیں جو نماز پڑھائی تھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن رکھے تھے انہیں اتار انہیں تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18952]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، مجمع إنما رواه عن محمد ابن إسماعيل بن مجمع، عن بعض أهله، عن الصحابي من أهل قباء وروايته عنه مبهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18953
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ، وسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ:" جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ" .
حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھ کپڑے (چادر) کے اندر کرلیے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18953]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وقد وهم فيه الدراوردي، وفيه مجاهيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
714. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18954
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ عَرَفَةَ، مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ أيام، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" ثُمَّ أَرْدَفَ خَلْفَهُ رَجُلًا، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ .
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ کچھ اہل نجد نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھالیا جو ان باتوں کی منادی کرنے لگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18954]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
715. حَدِيثُ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18955
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُنَادَى أَيَّامَ التَّشْرِيقِ أَنَّهُ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" ..
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج ایام تشریق میں یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں سوائے کسی مسلمان کے کوئی دوسرا شخص داخل نہ ہوگا اور آج کل کے دن کھانے پینے کے دن ہیں۔ حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج ایام تشریق میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔۔ آج کل کے دن کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18955]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18956
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
716. حَدِیث بِشرِ الْخَثْعَمِيِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18957
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ" . قَالَ: فَدَعَانِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ، فَغَزَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ.
حضرت بشر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا، اس کا امیر کیا خوب ہوگا اور وہ لشکر کیسا بہترین ہوگا، راوی کہتے ہیں کہ مجھے مسلمہ بن عبدالملک نے بلایا اور اس نے مجھ سے یہ حدیث پوچھی، میں نے بیان کردی تو وہ قسنطنیہ کے جہاد میں شریک ہوا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18957]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن بشر، وقد اختلف على زيد بن الحباب فى اسمه واسم أبيه ونسبه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
717. حَدِيثُ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18958
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرِقِ ثَقِيفٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ يَبْتَغِي عِنْدَهُمْ النَّصْرَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ: فَوَعَيْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ، ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَدَعَتْنِي ثَقِيفٌ، فَقَالُوا: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا، لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ مَا يَقُولُ حَقًّا لاَتََّبِعْنَاهُ" .
حضرت خالد عدوانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قبیلہ ثقیف کے پاس مدد حاصل کرنے کے لئے آئے تھے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرقی ثقیف میں دیکھا تھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کمان یا لاٹھی سے ٹیک لگائے کھڑے تھے، میں نے انہیں مکمل سورت والسماء والطارق پڑھتے ہوئے سنا، میں اس وقت مشرک تھا لیکن پھر بھی میں نے اسے زبانی یاد کرلیا، پھر مسلمان ہونے کے بعد بھی اسے پڑھا، قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے مجھے بلا کر پوچھا کہ تم نے اس شخص کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے انہیں وہ سورت پڑھ کر سنادی، تو ان کے ہمراہی میں موجود قریش کے لوگ کہنے لگے ہم اپنے اس ساتھی کو خوب جانتے ہیں، اگر ہمیں یقین ہوتا کہ یہ جو کہہ رہے ہیں، برحق ہے تو ہم ان کی پیروی ضرور کرتے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18958]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن خالد. عبدالله بن عبدالرحمن الطائفي ضعيف يعتبر فى الشواهد والمتابعات، ولم يتابعه أحد هنا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
718. حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18959
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ عَرِيبٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ" .
حضرت عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشد فرمایا موسم سرما کے روزے تو ٹھنڈی ٹھار غنیمت ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18959]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فيه علل ثلاث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
719. حَدِيثُ كَيْسَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18960
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزِّقَاقِ يُرِيدُ بِهَا التِّجَارَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُكَ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا كَيْسَانُ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ" قَالَ: أَفَأَبِيعُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُهَا" . فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزِّقَاقِ، فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهَا، ثُمَّ أَهْرَقَهَا.
حضرت کیسان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ نبی کے دور میں شراب کی تجارت کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ شام سے واپس آئے تو ان کے ساتھ شراب کے بہت سے مٹکے تھے جو تجارت کے ارادے سے وہ لائے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے پاس بڑی عمدہ شراب لے کر آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسان! وہ تو تمہارے پیچھے حرام ہوگئی،، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اسے بیچ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب بھی حرام ہوچکی اور اس کی قیمت بھی، چناچہ حضرت کیسان واپس آئے اور پاؤں سے ٹھوکریں مار مار کر ان مٹکوں کو توڑ ڈالا اور شراب بہادی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18960]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة نافع بن كيسان مختلف فى صحبته
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
720. حَدِيثُ جَدِّ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18961
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ" قَالَ عمر: فَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ يَا عُمَرُ" .
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ساتھ تھے، نبی نے حضرت عمر فاروق کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، نبی نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بخدا! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! اب بات بنی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18961]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3694، ابن لهيعة سيئ الحفظ لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں