مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
736. حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18992
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِهِمْ مِنْهُمْ، وَحَلِيفُهُمْ مِنْهُمْ" .
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح بھانجا اور حلیف بھی اسی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18992]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: وحليفهم منهم، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
حدیث نمبر: 18993
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟"، قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا وَحَلِيفُنَا وَمَوْلَانَا، فَقَالَ: " ابْنُ أُخْتِكُمْ مِنْكُمْ، وَحَلِيفُكُمْ مِنْكُمْ، وَمَوْلَاكُمْ مِنْكُمْ، إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَةٍ، فَمَنْ بَغَى لَهَا الْعَوَائِرَ، أَكَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ" .
حضرت رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے قریش کو جمع کیا اور پوچھا کہ تم میں قریش کے علاوہ تو کوئی نہیں؟ لوگوں نے کہا نہیں، البتہ ہمارے بھانجے، حلیف اور آزاد کردہ غلام ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بھانجے، حلیف اور آزاد کردہ غلام تم ہی میں سے ہیں، بیشک قریش کے لوگ سچائی اور امانت والے ہیں، جو شخص ان کے لئے گڑھے کھودے گا، اللہ اسے اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18993]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف دون قوله:أبن أختكم منكم ومولاكم منكم فصحيح لغيره
حدیث نمبر: 18994
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَلِيفُنَا مِنَّا، وَمَوْلَانَا مِنَّا، وَابْنُ أُخْتِنَا مِنَّا" .
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ہمارا آزاد کردہ غلام، بھانجا اور حلیف بھی ہم ہی میں شمار ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18994]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: حليفا منا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
حدیث نمبر: 18995
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى كَنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: " إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ، فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، وَمَكِّنْ لِرُكُوعِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، وَإِذَا سَجَدْتَ، فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ" .
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا، نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ، کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی، وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ، کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی، وہ کہنے لگا یارسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھا دیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قبلہ کی طرف رخ کرلو تو اللہ اکبر کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو، جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی کمر بچھالو اور رکوع کے لئے اسے خوب برابر کرلو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو سیدھا کرلو، یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بائیں ران پر بیٹھ جاؤ اور ہر رکوع و سجود میں اسی طرح کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18995]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على على بن يحيي
حدیث نمبر: 18996
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، وَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟" قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا" .
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب نبی نے رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پیچھے سے ایک آدمی نے ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کلمات ابھی کس نے کہے، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون ان کا ثواب پہلے لکھتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18996]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 799
حدیث نمبر: 18997
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي، فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ، فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قُمْ، فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا، فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تُنْقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ" .
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھنے کر واپس آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگیا، نبی کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھادیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قبلہ کی طرف رخ کرلو تو اللہ اللہ اکبر کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اپنی کمربچھالو اور رکوع کے لئے اسے خوب برابر کرلو جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو سیدھا کرلو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے اپنے جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور کھڑے ہوجاؤ اگر تم نے اس طرح اپنی نماز کو مکمل کیا تو تم نے اسے کامل ادا کیا اور اگر تم نے ان میں سے کسی چیز میں کوتاہی کی تو تمہاری نماز نامکمل ہوئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18997]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
737. حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18998
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا فِي مَعَايِشِنَا، فَقَالَ: نَهَانَا عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْهَا" . وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَهُ نَوَاضِحَنَا، وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ: نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ.
طارق بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرمادیا ہے جو معاشی اعتبار سے ہمارے لئے فائدہ مند تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جس شخص کے پاس کچھ زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ اس میں خود کھیت اور فصل لگائے یا اپنے بھائی کو لگوادے یا اسے یونہی پڑا رہنے دے اور سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع کرتے ہوئے ہمیں حکم دیا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو کھلادیں، نیز باندی کی جسم فروشی کی کمائی سے بھی منع کیا ہے الاّ یہ کہ وہ اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرتی ہو اور انگلیوں سے اشارہ کرکے بتایا مثلاً روٹی پکانا، سینا پرونا اور بیل بوٹے بنانا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18998]
الحكم على الحديث:
هذا إسناد لا يصح، والحديث غلط
738. حَدِيثُ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18999
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ"، وَرَفَعَ يَدَيْهِ" فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ" .
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہوں گے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متفق و متحد ہوں " تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑادو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18999]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1852
حدیث نمبر: 19000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ" .
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہوں گے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متفق و متحد ہوں " تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑادو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19000]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1852
739. حَدِيثُ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19001
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ :" أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ لِأُضْحِيَّتِهِ .
حضرت عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیاجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19001]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عباد بن تميم لم يسمع من عويمر بن أشقر