🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
772. حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19071
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، بِحَدِيثِ الشَّمْسِ.

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل قوي، أبو عبدالله تابعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
773. حَدِيثُ أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19072
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَلَمَّا فَصَلَ، سَرَى لَيْلَةً، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي نِصْفِ اللَّيْلِ، فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ، وَرِجْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَرْزِ، فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ:" حَسِّ"، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" سَلْ" فَقَالَ: فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَأُخْبِرُهُ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي: " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطُّوَالُ الْقِطَاطُ" أَوْ قَالَ:" الْقِصَارُ" عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ" الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ؟" قَالَ: فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أولئك رهط من أسلم وقد تخلَّوْا، فقال رسول الله صَلَي الله عَلَيه وَسلَم:" فمَا يَمْنَعُ أَحَدُ أُولَئِكَ حِينَ يتَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فإن أعزَّ أهلي عليَّ أن يَتَخَلَّفَ عَنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ، وَغِفَارٍ، وأسلم" ..
حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ جو بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے " کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے تو رات کے وقت سفر شروع کیا میں چلتے چلتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا مجھے باربار اونگھ آرہی تھی میں جاگنے کی کوشش کرنے لگا کیونکہ میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی اور مجھے اس سے اندیشہ ہورہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں جو رکاب میں ہے کہیں میری سواری کے قریب ہونے سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے اس لئے میں اپنی سواری کو پیچھے رکھنے لگا اسی کشمکش میں آدھی رات کو مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سوگیا۔ اچانک میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر چڑھ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پاؤں رکاب میں تھا اسے چوٹ لگ گئی لیکن میں اسی وقت بیدار ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے احساس دلایا میں نے سر اٹھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لئے بخشش کی دعاء فرمادیجئے (مجھ سے یہ حرکت جان بوجھ کر نہیں ہوئی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء خود مانگو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان لوگوں کے متعلق پوچھنے لگے جو بنوغفار میں سے تھے اور اس غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ سرخ رنگ کے ان دراز قد لوگوں کا کیا بنا جن کی بھنوئیں باریک ہیں؟ میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کے متعلق بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان سیاہ فام لوگوں کا کیا بنا جو گھنگریالے بالوں والے ہیں جن کے پاس " شظیہ شرخ " میں جانور بھی ہیں؟ میں نے بنوغفار میں ان صفات کے لوگوں کو یاد کیا تو مجھے کوئی گروہ یاد نہیں آیا بالآخر مجھے قبیلہ اسلم کا ایک گروہ یاد آگیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پتہ نہیں ان لوگوں کو جو پیچھے رہ جاتے ہیں کون سی چیز اس بات سے روکتی ہے کہ وہ کسی چست آدمی کو ہی اللہ کے راستہ میں اپنے کسی اونٹ پر سوار کردیں؟ کیونکہ میرے اہل خانہ کے نزدیک یہ بات انتہائی اہم ہے کہ وہ مہاجرین قریش، انصار، اسلم اور غفار سے پیچھے رہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ جو بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے " کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں اپنی سواری کو پیچھے رکھنے لگا اسی کشمکش میں آدھی رات کو مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان سیاہ فام لوگوں کا کیا بنا جو گھنگریالے بالوں والے ہیں جن کے پاس " شظیہ شرخ " میں جانور بھی ہیں؟ میں نے بنوغفار میں ان صفات کے لوگوں کو یاد کیا تو مجھے کوئی گروہ یاد نہیں آیا بالآخر مجھے قبیلہ اسلم کا ایک گروہ یاد آگیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ قبیلہ اسلم کا ایک گروہ ہے جو ہمارا حلیف تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19072]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي أبى رهم، وقد اختلف فيه على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19073
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَنِمْتُ لَيْلَةً بِالْأَخْصَرِ، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي بَعْضَ اللَّيْلِ، وَقَالَ:" مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ؟" فَيَرَى أَنَّهُمْ مِنْ بَنِي غِفَارٍ..

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي أبى رهم، وقد اختلف فيه على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19074
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَذَكَرَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، وَقَالَ فيه:" مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ" قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ:" بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ" قَالَ: فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا.

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي أبى رهم، وابن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
774. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19075
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ القَرَّ"، وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ، أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ، أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ؟ قَالُوا: قَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ" .
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے عظیم ترین دن دس ذی الحجہ پھر آٹھ ذی الحجہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قربانی کے لئے پانچ چھ اونٹوں کو پیش کیا گیا جن میں سے ہر ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اسے ذبح کریں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ذبح کرچکے تو آہستہ سے ایک جملہ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا تو اس نے وہ جملہ بتایا کہ جو چاہے کاٹ لے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19075]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19076
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ زُرْعَةَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ" .
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ عرض کیا شیطان بن قرط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام عبداللہ بن قرط ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19076]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
775. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجَنَّةُ" قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" إِلَّا الدَّيْنَ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا" .
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے جبرائیل نے بتائی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19077]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19078
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى الْهِلَالِيِّينَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ؟ قَالَ: " الْجَنَّةُ" قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الدَّيْنَ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے جبرائیل نے بتائی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19078]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
776. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19079
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ" .
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19079]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19080
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ، وَحَثَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ" .
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ چناچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19080]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں