مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
760. حَدِيثُ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19032
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ يَعْنِي أَخَا عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ، وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ: وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ، وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ" ..
حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کے نام پر نام رکھا کرو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں سب سے سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور سب سے بدترین نام حرب اور مرہ ہیں اور گھوڑے باندھا کرو ان کی پیشانیوں اور دموں کے قریب ہاتھ پھیرا کرو ان کے گلے میں قلادہ باندھا کرو لیکن تانت کا نہیں اور ان گھوڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو جو چتکبرے اور سفید روشن پیشانی اور چمکتے ہوئے اعضاء والے ہوں یا جو سرخ وسفید یا کالے سیاہ ہوں اور پیشانی روشن چمکدار ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19032]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عقيل بن شبيب، وقد اختلف فيه على محمد بن مهاجر
حدیث نمبر: 19033
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجَرِ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْكَلَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَدْرِي بِالْكُمَيْتِ بَدَأَ أَوْ بِالْأَدْهَمِ، قَالَ: وَسَأَلُوهُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ؟ قَالَ: لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ الْأَشْقَرِ.
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عقيل بن شبيب ، وقد اختلف فيه على محمد بن مهاجر
761. حَدِيثُ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ غَيْرُ مُتَوَضِّئٍ، فَقَالَ: حدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحُضَيْنِ أَبِي سَاسَانَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَال: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ" . قَالَ: فَكَانَ الْحَسَنُ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ أَوْ يَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَتَطَهَّرَ.
حضرت مہاجر قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو فرما رہے تھے اس کے لئے جواب نہیں دیا جب وضو کرچکے تو ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بےوضو ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لوں۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی حدیث کی بناء پر خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ وضو کئے بغیر قرآن پڑھنا یا اللہ کا ذکر کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19034]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن أبى عروبة بعدالاختلاط، لكنه توبع
762. حَدِيثُ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ فُلَانِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَعْمَالُ مُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ، وَسَبْعُ مِئَةِ ضِعْفٍ، فَالْمُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ قَدْ أَشْعَرَهَا قَلْبَهُ، وَحَرَصَ عَلَيْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ وَاحِدَةً وَلَمْ تُضَاعَفْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كَانَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دو چیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سر انجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19035]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19036
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19036]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19037
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شَمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا خُرَيْمُ لَوْلَا خُلَّتَانِ" قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِسْبَالُكَ إِزَارَكَ، وَإِرْخَاؤُكَ شَعْرَكَ" .
حضرت خریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم میں دو چیزیں نہ ہوتی تو تم تم ہوتے عرض کیا کہ مجھے ایک ہی بات کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہو اور بال خوب لمبے کرتے ہو عرض کیا اللہ کی قسم! اب یقینا ایسا نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19037]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه، شمر بن عطية لم يدرك خريم بن فاتك. سماع أبى بكر من ابي اسحاق ليس بذلك القوي، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19038
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عن أبيه ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُضَاعَفُ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19038]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19039
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ، فَمُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْحَسَنَةُ بِسَبْعِ مِئَةٍ، فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يُشْعِرَهَا قَلْبَهُ، وَيَعْلَمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِئَةٍ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ: مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" .
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دو چیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سرانجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ باقی رہے لوگ تو ان میں سے بعض پر دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی ہوتی ہے بعض پر دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں تنگی اور بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19039]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على الركين بن الربيع
763. حَدِيثُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ، فَقَامَ" .
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کے میں نے حضرت ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے کوئی جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19040]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر، وأما قوله فى هذا الحديث: «أشهد على أبى سعيد بن زيد» فقد وقع فيه الخلاف
764. حَدِيثُ مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19041
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أوس ، عَنْ رَجُلٍ ، حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " صَلُّوا فِي الرِّحَالِ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مؤذن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ تیز بارش کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ اپنے اپنے مقام پر نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19041]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، والرجل المبهم هو صحابي