مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
802. حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 19983
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ , وَعَفَّانُ , قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا مَبْسُورًا قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ وَالرَّجُلُ قَاعِدٌ، فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا، فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19983]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1116
حدیث نمبر: 19984
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ" قَالَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19984]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
حضرت عمران رضی اللہ عنہ عن ہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نافرمانی یا غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19985]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك متهم، والحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19986
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي أَهْلِ الْجَنَّةِ النِّسَاءُ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہونگی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19986]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19987
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا جَلَبَ , وَلَا جَنَبَ , وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا" .
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19987]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19988
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ" ، قَالَ الْجُرَيْرِيُّ: صُمْ يَوْمًا.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19988]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 19989
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا، فَلَمْ يُفْلِحْنَ وَلَمْ يُنْجِحْنَ" .
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19989]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19990
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَعَفَّانُ , قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَقَالَ حَسَنٌ: عَنْ قَتَادَةَ ، عَن أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ لَا يَقُومُ إِلَّا لِعُظْمِ صَلَاةٍ" , يعني المكتوبةَ الفريضةَ , قال عفان: عامةً يُحدِّثُنا لَيلَه عن بني إسرائيل لا يقوم إلا لعُظْم صلاةٍ.
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت اکثر بنی اسرائیل کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19990]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن عمرو، أخطأ فيه أبو هلال، فجعله من حديث عمران
حدیث نمبر: 19991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ فَأَمَرَ، فَأُذِّنَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى اسْتَقَلَّتْ، ثُمَّ أَمَرَ فَقَامَ فَصَلَّى" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے وقت ایک مقام پر پڑاؤ کیا، تو فجر کی نماز کے وقت سب لوگ سوتے ہی رہ گئے اور اس وقت بیدار ہوئے جب سورج طلوع ہوچکا تھا، جب سورج خوب بلند ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں، پھر انہوں نے فرض نماز ادا کی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19991]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19992
حَدَّثَنَا حُسيَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ: أَنَّ حُصَيْنًا أَوْ حَصِينًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ، كَانَ يُطْعِمُهُمْ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي" , قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكَ، فَقُلْتَ لِي:" قُلْ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي" , فَمَا أَقُولُ الْآنَ؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حصین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بہتر اپنی قوم کے لئے تو عبدالمطلب تھے، وہ لوگوں کو جگر اور کوہان کھلایا کرتے تھے اور آپ ان ہی کو ذبح کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مناسب جواب دیا، اس نے کہا کہ آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کام پر پختگی عطاء فرما۔ وہ شخص چلا گیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ آیا اور کہا کہ پہلے میں آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے یہ کہنے کے لئے فرمایا تھا کہ اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کا پر پختگی عطاء فرما، اب میں کیا کہا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ! میرے پوشیدہ اور علانیہ، غلطی سے اور جان بوجھ کر، واقف ہو کر یا نادان ہو کر سرزد ہونے والے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19992]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح