🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
807. حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20063
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ وَهُوَ فِي غَزْوٍ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ، وَعَلَيْهِ شِرَاؤُهَا لِسَيِّدَتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ، فَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے ایک غزوے کے دوران اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20063]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ثم إن فى هذا الاسناد اختلافا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20064
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لِامْرَأَتِهِ فَوَقَعَ بِهَا، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ عَتِيقَةٌ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ أَمَتُهُ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا" ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِي غَزْوَةٍ..
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20064]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20065
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20065]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيد ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20067
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قِرْبَةٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَدَعَا مِنْهَا بِمَاءٍ وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" سَلُوهَا، أَلَيْسَ قَدْ دُبِغَتْ؟" فَقَالَتْ: بَلَى فَأَتَى مِنْهَا لِحَاجَتِهِ، فَقَالَ: " ذَكَاةُ الْأَدِيمِ دِبَاغُهُ" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ حنین کے موقع پر ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20067]

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف لانقطاعه، فأن الحسن لم يسمع من سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20068
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَأَتَى عَلَى بَيْتٍ قُدَّامُهُ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ الشَّرَابَ , فَقِيلَ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" ذَكَاتُهَا دِبَاغُهَا" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ حنین کے موقع پر ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20068]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20069
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ، وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، وإنْ كانت طاوَعَتْه فهيَ له، وعليه لسيِّدَتِها مِثلُها" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20069]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة قبيصة بن حريث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْوَةَ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ , وَكَانَ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ بَعَثَ بَدَنَتَيْنِ مَعَ رَجُلٍ، وَقَالَ:" إِنْ عَرَضَ لَهُمَا فَانْحَرْهُمَا، وَاغْمِسْ النَّعْلَ فِي دِمَائِهِمَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَيْهِمَا، حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُمَا بَدَنَتَانِ" قَالَ:" صَفْحَتَيْ كُلِّ وَاحِدَةٍ" قَالَ:" وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ، وَدَعْهَا لِمَنْ بَعْدَكُمْ" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی کے ہاتھ قربانی کے دو اونٹ بھیجے اور فرمایا اگر انہیں کوئی بیماری لاحق ہوجائے (اور یہ مرنے کے قریب ہوجائیں) تو انہیں ذبح کر دینا اور ان کے نعل کو ان ہی کے خون میں ڈبو کر ان کی پیشانی پر لگا دینا تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ دونوں قربانی کے جانور ہیں اور تم یا تمہارے رفقاء میں سے کوئی بھی اس میں سے کچھ نہ کھائے، بلکہ بعد والوں کے لئے اسے چھوڑ دینا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20070]

الحكم على الحديث:
...
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20071
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ , وَأَبُو دَاوُدَ ، وعبد الصمد ، المعنى، قَالُوا: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ قِرْبَةٍ عِنْدَ امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا؟" قَالَتْ: بَلَى , قَالَ:" دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا" .
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20071]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، معاذ بن سعوة مجهول، وعبدالكريم بن أبى المخارق ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20072
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بن عبد الوارث ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْعَوْذِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ مُكْرَانَ، فَقَالَ سِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْمُحَبِّقِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ، لَهُ حُمُولَةٌ يَأْوِي إِلَى شِبَعٍ، فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ" , وقَالَ سِنَانٌ: وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَبُشِّرَ بِي أَبِي، فَقَالُوا لَهُ: وُلِدَ لَكَ غُلَامٌ , فَقَالَ: سَهْمٌ أَرْمِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا بَشَّرْتُمُونِي بِهِ , وَسَمَّانِي سِنَانًا.
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو رمضان ملے اور اس میں اتنی ہمت ہو کہ وہ بھوک کو برداشت کرسکے تو وہ جہاں بھی دوران سفر ماہ رمضان کو پالے، اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ اور سنان کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین کے دن پیدا ہوا تھا، میرے والد کو میری پیدائش کی خوشخبری دی گئی اور لوگوں نے بتایا کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں وہ تیر جو میں چلاؤں، اس خوشخبری سے زیادہ مجھے پسند ہے جو تم نے مجھے دی ہے، پھر انہوں نے میرا نام سنان رکھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20072]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں