🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
808. بَقِيَّةُ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20073
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ، فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ" .
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20073]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
809. بَقِيَّةُ حَدِيثِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20074
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي مُرْدِفِي خَلْفَهُ عَلَى حِمَارٍ، وَأَنَا صَغِيرٌ،" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنًى عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ" .
حضرت ہر م اس بن زیاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن میدان منٰی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عضباء نامی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت میرے والد نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور میں چھوٹا بچہ تھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20074]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20075
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مُرْدِفِي،" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ" .
حضرت ہر م اس بن زیاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن میدان منٰی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عضباء نامی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت میرے والد نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور میں چھوٹا بچہ تھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20075]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
810. بَقِيَّةُ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20076
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ : أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرْكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ , قَالَ:" فَأَعْطِهَا، فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ" ..
حضرت سعد بن اطول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا ایک بھائی فوت ہوگیا، اس نے تین سو دینار ترکے میں چھوڑے اور چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے ان پر کچھ خرچ کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مقروض ہو کر فوت ہوا ہے لہذا جا کر پہلے ان کا قرض ادا کرو، چنانچہ میں نے جا کر اس کا قرض ادا کیا اور حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ! میں نے اپنے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ہے اور سوائے ایک عورت کے کوئی قرض خواہ نہیں بچا، وہ دو دیناروں کی مدعی ہے لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سچا سمجھو اور اس کا قرض بھی ادا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20076]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك أبى جعفر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20077
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20077]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20078
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ أَفْلَحَ وَلَا نَجِيحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ، أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ؟ قَالُوا: لَا" .
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو، اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20078]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2137
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِيٍ قُشَيْرٍ , قَالَ رَوْحٌ , قَالَ: سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ ، وَكَانَ إِمَامَهُمْ , قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ" أَوْ" يَطْلُعَ الْفَجْرُ" .
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20079]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْبَدَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ: ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" .
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث الغاشیۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20080]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: " كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَانِ فِي صَلَاتِهِ" ,وَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: أَنَا مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20081]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأن سماع الحسن من سمرة لم يثبت إلا فى حديث العقيقة، وفيما عدا ذلك فهو على الإرسال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هِيَ الْعَصْرُ" , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍِ: سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ " صلوۃ وسطی " سے کیا مردا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20082]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ولم يصرح الحسن بسماعه من سمرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں