مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20103
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَحُسَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ : وَسَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20103]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2845
حدیث نمبر: 20104
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20104]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الحسن لم يسمعه من سمرة، كما هو مصرح به هنا
حدیث نمبر: 20105
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20105]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن عاصم، لكنه متابع، وأبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20106
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَقُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: بَلَى , قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ" .
زید بن عقبہ فزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حجاج بن یوسف کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح کرے، کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے سنائی ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں؟ زید نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے، اب جو چاہے، اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے، جو با اختیار ہو، یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20106]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20107
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ" . " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ، فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ: لَا" , إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ، لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ اور الحمد للہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع مت رکھو) اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں، ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20107]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2137
حدیث نمبر: 20108
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20108]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2845
حدیث نمبر: 20109
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی ایسے شخص کے پاس دیکھے جسے حکومت نے مفلس قرار دے دیا ہو، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20109]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة خاصة ضعف، وقد خولف، وهذا المتن صحيح، لكن من حديث أبى هريرة
حدیث نمبر: 20110
وَعن سمرة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20110]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة خاصة ضعف، وقد خولف
حدیث نمبر: 20111
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ، وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بیٹھنے میں اعتدال سے کام لیں اور بےاطمینانی کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20111]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن بشير، والحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20112
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْضُرُوا الْجُمُعَةَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20112]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الضعف الحكم بن عبدالملك، والحسن لم يصرح بسماعه