🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20263
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلَانِ الْمَرْأَةَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ، وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ الْبَيْعَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20263]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ، الحسن مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20264
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20264]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20265
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَسْأَلَ فِي الْأَمْرِ، لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا" , قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَجَّاجَ، فَقَالَ: سَلْنِي، فَإِنِّي ذُو سُلْطَانٍ.
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے اور اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو بااختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20265]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20266
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ , وَيُونُسُ , عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ," أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى بِهِمْ سَكَتَ سَكْتَتَيْنِ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 سَكَتَ أَيْضًا هُنَيَّةً" , فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكَتَبَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أُبَيٌّ , أَنَّ الْأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ..
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20266]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20267
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَن يُونُسَ ، قَالَ: وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20267]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20268
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَن الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ لَا نَسْمَعُ لَهُ فِيهِمَا صَوْتًا" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو (سری قرأت فرمائی) اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20268]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
812. حَدِيثُ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20269
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ يَعْنِي ابْنَ زَرِيرٍ , وَأَبُو الْأَشْهَبِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ" ..
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی تھی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20269]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20270
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20270]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20271
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ ، قَالَ: وَزَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى عَرْفَجَةَ، قَالَ: أُصِيبَ أَنْفُ عَرْفَجَةَ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ" ..
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی تھی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20271]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20272
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ , أَخْبَرَنِي أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: وَزَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَدْ رَأَى جَدَّهُ، يَعْنِي عَرْفَجَةَ..

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں