🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
812. حَدِيثُ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20273
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَمِيمٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّ أَنْفَهُ أُصِيبَ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ..

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن تميم مجهول لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20274
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكِلَابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20275
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي الْجَرْبِيَّ السِّمْسَارَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ يَعْنِي مَاءً اقْتَتَلُوا عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ , قَالَ: فَمَا أَنْتَنَ عَلَيَّ..

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طرفة بن عرفجة، وقد روي الحديث عن عبدالرحمن عن جده، وهو المحفوظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20276
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْكُوفِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ شَدَّ أَسْنَانَهُ بِالذَّهَبِ، فَذُكِرَ مِثْلَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ , حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , قَالَ: سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى أَبِي الْأَشْهَبِ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَقَالُوا: حَدِّثْنَا , قَالَ: سَلُوا , فَقَالُوا: مَا مَعَنَا شَيْءٌ نَسْأَلُكَ عَنْهُ , فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: سَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ.
حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ بن عبداللہ کے دانتوں پر سونے کی تار بندھی ہوئی دیکھی تو ابراہیم نخعی سے اس کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ محدثین کی ایک جماعت ابوالاشہب کے پاس آئی اور ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے اجازت دے دی آنے والوں نے درخواست کی کہ ہمیں کوئی حدیث سنائیے ابوالاشہب نے فرمایا کہ تم خود پوچھو آنے والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے جو آپ سے پوچھیں تو پردے کے پیچھے سے ان کی بیٹی بولی کہ ان سے حضرت عرفجہ بن اسعد کی حدیث پوچھوجن کی ناک جنگ کلاب کے موقع پر زخمی ہوگئی تھی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20276]

الحكم على الحديث:
إسناد الأثر حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ , قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ" .
حضرت عرفجہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہونگے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متحد متفق ہوں " تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20277]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
813. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20278
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قِطْرِيٌّ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، مُحْتَبٍ بِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا"، وَيُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ .
بنوسلیط کے ایک شخص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20278]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن راشد لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
814. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20279
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ ، حَدَّثَنِي أَحَدُ بَنِي سُلَيْمٍ، وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قال: قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ، فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ وَوَسَّعَهُ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَه" .
بنوسلیم کے ایک صحابی سے مروی ہے (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جو کچھ دے رکھا ہوتا ہے وہ اس میں اس کا امتحان لیتا ہے سو جو شخص اللہ کی تقسیم پر راضی ہوجائے اللہ اسے برکت اور وسعت دے دیتا ہے اور جو راضی نہ ہو اس کو برکت نہیں ملتی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20279]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
815. حَدِيثُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20280
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْحَلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يَعْنِي: مَطَرًا،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ، أَنَّ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ أَوْ الْجُمُعَةَ الْيَوْمَ فِي الرِّحَالِ" ..
ابوملیح اپنے والد حضرت اسامہ سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ جمعہ کے دن بارش ہونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر یہ منادی کردی گئی کہ آج اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لی جائے۔ نافع بن عمر بن جمیل کہتے ہیں کہ میں نے عطاء ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا ہے کہ یہ لوگ دس ذی الحجہ کی نماز فجر سے پہلے ہی جمرہ عقبہ کی رمی کرلیتے تھے عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میرے والد نے ان سے پوچھا کہ اے ابوسلیمان آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی تھی انہوں نے بتایا ٦٩ ھ میں جس سال حضرت امام حسین کا واقعہ پیش آیا۔ فائدہ۔ یہ روایت ناقابل فہم ہے کیونکہ شہادت حسین کا واقعہ ٦٠ ھ میں پیش آیا تھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20280]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو بشر مجهول لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20281
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَطاءَ , وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ , وعكرمة بن خالد " يرمون الجمرة قبل الفجر يوم النحر . قال عبد الله بن أحمد: فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ، فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ، وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ.

الحكم على الحديث:
قد ثبت فى حديث ابن عباس: "ابيني، لاترموا الجمرة حتي تطلع الشمس"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20282
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ سورة المدثر آية 6 , قَالَ: " لَا تُعْطِي شَيْئًا تَطْلُبُ أَكْثَرَ مِنْهُ" .
قاسم بن ابوبزہ ارشاد باری تعالیٰ ولاتمنن تستکثر کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ کسی کو اس جذبے سے کچھ نہ دو کہ بعد میں اس سے زیادہ کا اس سے مطالبہ کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20282]

الحكم على الحديث:
هذا الاثر رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں