مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
815. حَدِيثُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20283
حَدَّثَنَا عبد الله، حدثنا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ، لَا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ" .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20283]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
816. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20284
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ , كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ، فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي، فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي، فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ، فَقَالَ:" قُل: أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ: أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ، قَالَ: " إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا" .
ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے چونکہ سواری کے جانور کم تھے اس لئے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے اترنے کی باری تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے میرے قریب آئے اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا قل اعوذ برب الفلق پڑھو میں نے یہ کلمہ پڑھا اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت مکمل پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ اسے پڑھ لیا پھر اسی طرح قل اعوذ برب الناس پڑھنے کے لئے فرمایا اور پوری سورت پڑھی جسے میں نے بھی یاد کرلیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز پڑھا کرو تو یہ دونوں سورتیں نماز میں پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20284]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
817. حَدِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ" ..
متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اچھی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20285]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20286
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ , " أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ عَلَى أَنَّهُ لَا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ، فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ" .
ایک صحابی کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبول اسلام کے لئے حاضر ہوئے تو یہ شرط لگائی کہ وہ صرف دو نمازیں پڑھیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط قبول کرلی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20287]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، غير الرجل المبهم الذى روى عنه نصر بن عاصم
حدیث نمبر: 20288
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، قَالَ: رُفِعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ .
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20288]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ولكنه توبع
818. حَدِيثُ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20289
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَاعٍ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً، فَغَشَّهَا، فَهُوَ فِي النَّارِ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی رعایا کا نگہبان بنے پھر اسے دھوکہ دے وہ جہنم میں جائے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20289]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7150، م: 142، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 20290
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ ابْنَةِ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِيهَا مَعْقِلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " لَيْسَ مِنْ وَالِي أُمَّةٍ، قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ، لَا يَعْدِلُ فِيهَا، إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی قوم کا حکمران خواہ اس کی رعایا تھوڑی ہو یا زیادہ اگر اس کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیتا اللہ اسے جہنم میں اوندھے منہ پھینک دے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20290]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابنة معقل بن يسار لا تعرف
حدیث نمبر: 20291
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ اشْتَكَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعْنِي يَعُودُهُ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَ بِهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً، فَيَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ لَهَا غَاشٌّ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی رعایا کا نگہبان بنے پھر اسے دھوکہ دے اور اسی حال میں مرجائے تو اللہ اس پر جنت کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20291]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7150، م: 142
حدیث نمبر: 20292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا أَبَا خَالِدٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" .
عیاض کہتے ہیں کہ میں نے دو آدمیوں کو حضرت معقل کی موجودگی میں جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا حضرت معقل نے فرمایا کہ رسول اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی بات پر جھوٹی قسم کھاتا ہے کہ کسی کا مال ناحق لے لے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ کا اس پر غضب ہوگا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20292]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض ابي خالد