🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ , فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ , فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ , ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ: انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ , قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ , فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ , ثُمَّ قَالَ: " قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا , أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ , فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ , وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ , فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ" .
حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22089]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22090
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ , حدثَنَا يَحْيَى التَّيْمِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوْ اثْنَانِ , قَالَ:" أَوْ اثْنَانِ" , قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ , قَالَ:" أَوْ وَاحِدٌ" , ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ" .
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوجائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا ان کا بھی یہی حکم ہے انہوں نے پوچھا اگر ایک ہو تو؟ فرمایا اس کا بھی یہی حکم ہے پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22090]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قصة السقط فى آخره وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى التيمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22091
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذ.
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22091]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22092
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , وَثَابِتٌ , فَحَدَّثَ عَاصِمٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ" , فَقَالَ ثَابِتٌ: قَدِمَ عَلَيْنَا , فَحَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ , وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ , قُلْتُ لِحَمَّادٍ: عَنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ: عَنْ مُعَاذٍ.
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22092]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح من جهة ثابت، ومن جهة عاصم ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22093
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ , مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا , أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ , أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ , أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ , وَيَسْلَمُ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کے متعلق ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص وہ کام کرے گا وہ اللہ کی حفاظت میں ہوگا، مریض کی تیماداری کرنے والا، جنازے میں شریک ہونے والا، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جانے والا، امام کے پاس جا کر اس کی عزت و احترام کرنے والا، یا وہ آدمی جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے کہ لوگ اس کی ایذاء سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کی ایذاء سے محفوظ رہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22093]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22094
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ , أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ , يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ , وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے اور عصر کے وقت دونوں نمازیں ملا کر اکٹھی ادا کرلیتے اور اگر زوال کے بعد کوچ فرماتے تو پہلے ظہر اور عصر دونوں پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو نماز عشاء کو پہلے ہی مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے پھر روانہ ہوتے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22094]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات،لكن أشار بعض أهل العلم إلى تفرد قتيبة به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22095
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ , وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ , فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ؟! فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ , وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ" .
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا بات ہے کہ میں اہل شام کو وتر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتا؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ ان پر واجب ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22095]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22096
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ , وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ:" فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" ..
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22096]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6267، م: 30
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22097
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ أَوْ مِثْلَهُ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22097]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22098
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22098]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں