مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22129
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً , أَوْ قَالَ: جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا , أَوْ عَدْلَهُ مَعَافِرَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا اور ہر بالغ ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22129]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22130
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ , عَنْ زَبَّانَ , عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ , قَالَ: " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ , وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ" , قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ , وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کے علاوہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22130]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين وزبان، وقد وقع فى هذا الإسناد خطأ، والصواب: أن هذا الحديث من مسند معاذ بن أنس الجهني، وليس من مسند معاذ بن جبل
حدیث نمبر: 22131
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ: " وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ , وَيَتَجَالَسُونَ فِيَّ , وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد ربانی منقول ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22131]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر، وفي سماع أبى إدريس من معاذ خلاف
حدیث نمبر: 22132
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ , قَالَ: " أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ , وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ" , قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ , وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ , وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا , أَوْ تَصْمُتَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کے علاوہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اور اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22132]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة وضعف زبان بن فائد، وهذا الحديث من مسند معاذ بن أنس الجهني، وليس من مسند معاذ بن جبل
حدیث نمبر: 22133
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ , وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ" , ثُمَّ قَرَأَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں خیر کے دروازے بتاتا ہوں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اسی طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔۔۔۔۔ یعلمون '' [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22133]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22134
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , فَقَالَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ" , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَقَالَ:" شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ" , قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , قَالَ:" خَرَجَ مِنَ النَّارِ , انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مُعْزِبًا , وَإِمَّا مُكَلِّبًا" , فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ , فَنَادَى بِهَا .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ اکبر اللہ اکبر " تو فرمایا یہ فطرت صحیحہ پر ہے پھر اس نے اشہدان لا الہ الا اللہ " کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حق کی گواہی دی اس نے اشہد ان محمد الرسول اللہ کہا تو فرمایا جہنم سے نکل گیا جا کر دیکھو یا تو تم اسے کوئی چرواہا پاؤ گے جو الگ ہوگیا یا قیدی ہوگا لوگوں نے دیکھا تو وہ ایک چرواہا تھا اور نماز کا وقت آجانے پر اس نے اذان دی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22134]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، والحكم بن عبدالملك ضعيف
حدیث نمبر: 22135
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: " لَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا" .
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22135]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22136
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ , فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ , فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا , فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ , فَقَالَ: بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا , وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ , قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ , وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ , وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ:" فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ , فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ" , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ , قَالَ:" وَسَمِعْتَهُ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ , فَأَبَى عَلَيَّ , أَوْ قَالَ: فَمَنَعَنِيهَا , فَقُلْتُ: حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا , حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا , حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا" , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لشکریوں سے فرمایا کہ یہ عذاب نازل ہوگیا ہے اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق نہیں کی اور فرمایا کہ بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء ہے اے اللہ! معاذ اور اس کی اہل خانہ کو اپنی رحمت کا حصہ عطاء فرما۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے شہادت اور رحمت کا مطلب تو سمجھ آگیا لیکن یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء سے کیا مراد ہے؟ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے دعاء کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پھر بخار یا طاعون " تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا صبح ہوئی تو اہل خانہ میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! میں نے رات کو آپ سے یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا واقعی تم نے وہ دعاء سنی تھی؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء قبول کرلی، پھر میں نے درخواست کی تھی کہ ان پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کا خون ارزاں کر دے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء بھی قبول کرلی پھر میں نے درخواست کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کیا جائے کہ یہ ایک دوسرے کا مزہ چکھتے رہیں لیکن اس نے یہ درخواست قبول نہیں کی، اس پر میں نے کہا کہ پھر بخار یا طاعون تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22136]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يدرك زمن الطاعون، لكن ما ساقه فى قصة الطاعون صحيح، والشطر الثاني منه مرسل أيضا، وقد صح منه دعاء النبى ﷺ أن لا يهلك أمته دون قوله: حمى إذا أو طاعونا
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضَّلَنِي رَبِّي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ , أَوْ قَالَ: عَلَى الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ , قَالَ: أُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً , وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا , فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ , وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ , وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَقْذِفُهُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي , وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ" ..
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22137]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22137M
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَيَّارٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ بِحَدِيثٍ آخَرَ , وَيُقَالُ: سَيَّارٌ الشَّامِيُّ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22137M]