مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22049
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا , فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22049]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22050
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" وَفُوَاقُ نَاقَةٍ: قَدْرُ مَا تُدِرُّ لَبَنَهَا لِمَنْ حَلَبَهَا.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22050]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22051
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذُرْوَةُ سَنَامِ الْإِسْلَامِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22051]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، إسماعيل بن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذه مها، وشهر ضعيف
حدیث نمبر: 22052
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ , خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ , وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ , فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ:" يَا مُعَاذُ , إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا , أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا , أَوْ قَبْرِي" , فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ: " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ , مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن روانہ فرمایا تو خود انہیں چھوڑنے کے لئے نکلے راستہ بھر انہیں وصیت فرماتے رہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وصیتیں کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا معاذ! ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم مجھ سے نہ مل سکو یا ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم میری مسجد اور میری قبر پر سے گذرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے غم میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنارخ پھیر کر مدینہ منورہ کی جانب کرلیا اور فرمایا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب متقی ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22052]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22053
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادٍ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْغَسَّانِيُّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ , فَقَالَ: " لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي , وَقَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيقَةٍ قُلُوبُهُمْ , يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ مَرَّتَيْنِ , فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصَاكَ , ثُمَّ يَعُودُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تُبَادِرَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا , وَالْوَلَدُ وَالِدَهُ , وَالْأَخُ أَخَاهُ , فَانْزِلْ بَيْنَ الْحَيَّيْنِ السَّكُونَ وَالسَّكَاسِكَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجتے ہوئے فرمایا آئندہ تمہارا گذر میری قبر اور مسجد پر ہی ہوگا میں تمہیں ایک ایسی قوم کے پاس بھیج رہا ہوں جو رقیق القلب ہیں اور وہ حق کی خاطر دو مرتبہ قتال کریں گے لہٰذا جو لوگ تمہاری اطاعت کرلیں، انہیں ساتھ لے کر اپنی نافرمانی کرنے والوں سے قتال کرنا، پھر وہ لوگ اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے حتیٰ کہ عورت اپنے شوہر پر، بیٹا اپنے باپ پر اور بھائی اپنے بھائی پر سبقت لے جائے گا اور تم " سکون " اور سکاسک " نامی قبیلوں میں جاکر پڑاؤ کرنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22053]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال يزيد، ثم هو منقطع، يزيد لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22054
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ , أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , خَرَجَ إِلَى الْيَمَنِ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ , وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ , فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ:" يَا مُعَاذُ , إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا , وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِي" , فَبَكَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ لَلْبُكَاءُ , أَوْ إِنَّ الْبُكَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن روانہ فرمایا تو خود انہیں چھوڑنے کے لئے نکلے راستہ بھر انہیں وصیت فرماتے رہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وصیتیں کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا معاذ! ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم مجھ سے نہ مل سکو یا ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم میری مسجد اور میری قبر پر سے گذرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے غم میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذ! مت روؤ، کیونکہ رونا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22054]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22055
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ , أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ" , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ , وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں کچھ قومیں ایسی آئیں گی جو سامنے بھائیوں کی طرح ہوں گی اور پیٹھ پیچھے دشمنوں کی طرح کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا کسی سے لالچ کی وجہ سے اور کسی کے خوف کی وجہ سے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22055]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر، وحبيب بن عبيد لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22056
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ , عَنِ اللَّجْلَاجِ , حَدَّثَنِي مُعَاذٌ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي , وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ , قَالَ: " سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ" , قَالَ: وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ , فَقَالَ:" ابْنَ آدَمَ هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ , قَالَ:" فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ , وَدُخُولُ الْجَنَّةِ" , وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ , فَقَالَ:" قَدْ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کرام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22056]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 22057
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ , قَالَ: أُتِيَ مُعَاذٌ بِيَهُودِيٍّ , وَارِثُهُ مُسْلِمٌ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ" فَوَرَّثَهُ .
ابو الاسود دیلی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس وقت یمن میں تھے تو ان کے سامنے ایک یہودی کی وراثت کا مقدمہ پیش ہوا جو فوت ہوگیا تھا اور اپنے پیچھے ایک مسلمان بھائی چھوڑ گیا تھا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا اور اس حدیث سے استدلال کر کے انہوں نے اسے وارث قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22057]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو الأسود لا يعرف له سماع من معاذ، وقد اختلف فيه على عمرو بن أبى حكيم
حدیث نمبر: 22058
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: أَتَيْنَا مُعَاذًا , فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ" , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22058]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد قوي