🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22318
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَرْبَعٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ: رَجُلٌ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا , فَأَجْرُهُ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا عَمِلَ بِهِ , وَرَجُلٌ أَجْرَى صَدَقَةً , فَأَجْرُهَا يَجْرِي عَلَيْهِ مَا جَرَتْ عَلَيْهِ , وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ". حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَمَنْ عَلَّمَ عِلْمًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ مَا عَلَّمَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار قسم کے لوگوں کا اجروثواب ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں ملتا رہتا ہے (ایک ایسا نیک عمل کرنے والا جس کا عمل جاری ہوجائے (دو صدقہ جاریہ کرنے والا آدمی (تین وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے اور وہ اولاد اس کے لئے دعاء کرتی رہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22318]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة ، ورواية ابن المبارك عن ابن لهيعة صالحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22319
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَمَنْ عَلَّمَ عِلْمًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ مَا عَلَّمَ"

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وخالد بن أبى عمران لم يسمع من أبى أمامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22320
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ , عَنِ السَّيْبَانِيِّ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الدّينِ , ظَاهِرِينَ لَعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ , لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ , حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ:" بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ , وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ غالب اور دین پر رہے گا اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا وہ اپنی مخالفت کرنے والوں یا بےیارو مددگار چھوڑ دینے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا الاّ یہ کہ انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال میں پر ہوں گے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس میں اور اس کے آس پاس۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22320]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، دون قوله: قالوا: يارسول الله! وأين هم....، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22321
قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , وَأَظُنُّ أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنَانِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ خِدْمَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی راہ میں کسی خیمے کا سایہ مہیا کرنا یا اللہ کے لئے مجاہد کی خدمت کرنا یا اللہ کے لئے کسی نر جانور پر کسی کو سوار کرنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22321]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف جدا، مطرح بن يزيد وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر:
آخِرُ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
977. حَدِيثُ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22322
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هِنْدٍ الدَّارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ، رَاءَى اللَّهُ تَعَالَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ" .
حضرت ابو ہندداری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دکھاوے اور شہرت کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن دکھاوے اور شہرت کے حوالے کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22322]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
978. حَدِيثُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الصَّحَابَةِ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الشَّامُ، وَإِنَّ بِهَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ الْغُوطَةُ يَعْنِي دِمَشْقَ مِنْ خَيْرِ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ , يَعْنِي فِي الْمَلَاحِمِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو " دمشق " نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی بہترین پناہ گاہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22323]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
979. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22324
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ , أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا لَهُ: احْفَظْ رِحَالَنَا، ثُمَّ تَدْخُلُ , وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: ادْخُلْ , فَدَخَلَ، فَقَالَ:" حَاجَتُكَ؟" قَالَ: حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي أَنْقَضَتْ الْهِجْرَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ" .
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا کہ ہماری سواریوں کا خیال رکھو، تم بعد میں چلے جانا کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی ضروریات پوری کردیں، پھر ان کے ساتھیوں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا، جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی ان کی ضرورت پوچھی انہوں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ آپ مجھے یہ بتادیں کہ کیا ہجرت ختم ہوگئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ضرورت ان سب کی ضرورت سے بہتر ہے جب تک دشمن سے قتال جاری رہے گا اس وقت تک ہجرت ختم نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22324]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
980. حَدِيثُ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَوَجْهُهُ إِلَى الْبَيْتِ، قَالت فَحَفِظَتْ مِنْهُ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَجَهْلِي" .
بنو نمیر کی ایک بوڑھی عورت کا کہنا ہے کہ میں نے ہجرت سے قبل مقام ابطح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعاء یاد کی ہے کہ اے اللہ! میرے گناہوں اور ناواقفی کو معاف فرما۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22325]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو السليل لم يسمع من أحد الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
981. حَدِيثُ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ الْمَرْأَةِ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا، فَأَكَلَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا؟ قَالُوا: بَلَى , قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ" .
ایک انصاری عورت " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں شامل تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تشریف لائے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے تناول فرمایا پھر ہم نے وضو کا پانی پیش کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کے متعلق نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طبعی ناپسندیدگی کے باوجود مکمل احتیاط کے ساتھ وضو کرنا، مسجدوں کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22326]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين الضحاك وعمرو بن عبدالله، وعمرو بن عبدالله لم يدرك أحدا من الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں