مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1001. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22484
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَطَرَحَ السِّكِّينَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر نماز کے لئے بلایا گیا تو چھری پھینک دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22484]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 675، م: 355
حدیث نمبر: 22485
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر نماز کے لئے بلایا گیا تو چھری پھینک دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22485]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2923، م: 355
حدیث نمبر: 22486
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ" .
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22486]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 204
1002. حَدِيثُ ابْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22487
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ ، فَقَالَ لِي: وَإِنَّهُ لَنَازِلٌ عَلَيَّ فِي بَيْتِي بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ، فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا، وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا، فَقَامَ فِينَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ" , ثُمَّ قَالَ:" لَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ الشَّامُ , وَالرُّومُ , وَفَارِسُ، أَوْ الرُّومُ , وَفَارِسُ حَتَّى يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْ الْبَقَرِ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْ الْغَنَمِ، حَتَّى يُعْطَى أَحَدُهُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا" , ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ هَامَتِي، فَقَالَ:" يَا ابْنَ حَوَالَةَ، إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ، فَقَدْ دَنَتْ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَايَا وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ، وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدَيَّ هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ" .
ابن زغب ایادی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن حوالہ میرے یہاں مہمان بن کر تشریف لائے اسی دوران انہوں نے ایک موقع پر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے آس پاس پیدل دستے کے ساتھ روانہ فرمایا تاکہ ہمیں مال غنیمت حاصل ہو لیکن ہم واپس آئے تو کچھ بھی مال غنیمت ہمیں نہ مل سکا تھا اور ہمارے چہروں پر مشقت کے آثار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرما لئے تھے اس لئے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا اے اللہ! انہیں دوسرے لوگوں کے حوالے نہ فرما کہ وہ ان پر غالب آجائیں پھر فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام، روم اور فارس فتح ہوجائیں گے حتی کہ تم میں سے ایک ایک آدمی کے پاس اتنے اتنے اونٹ گائیں اور بکریاں ہوں گی یہاں تک کہ اگر کسی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں پہنچ گئی ہے تو سمجھ لو کہ زلزلے مصبتیں اور بڑے بڑے امور قریب آگئے ہیں اور اس وقت قیامت لوگوں کے اتنے قریب آجائے گی جیسے میرا یہ ہاتھ تمہارے سر کے قریب ہے اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22487]
الحكم على الحديث:
ضعيف، فقد تفرد به معاوية ابن صالح بهذه السياقة، وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 22488
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا" , قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَوْتِي، وَمِنْ قَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ، وَالدَّجَّالِ" .
حضرت عبداللہ بن حوالہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا (تین مرتبہ فرمایا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا وہ کیا ہے یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری موت حق پر ثابت قدم خلیفہ کے قتل سے اور دجال۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22488]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 22489
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , وَعَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ أَجْنَادٌ مُجَنَّدَةٌ شَامٌ , وَيَمَنٌ , وَعِرَاقٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِأَيِّهَا بَدَأَ وَعَلَيْكُمْ بِالشَّامِ، أَلَا وَعَلَيْكُمْ بِالشَّامِ، أَلَا وَعَلَيْكُمْ بِالشَّامِ، فَمَنْ كَرِهَ فَعَلَيْهِ بِيَمَنِهِ، وَلْيَسْقِ فِي غُدُرِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ" .
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب شام یمن اور عراق میں بہت سے لشکر ہوں گے یہ بات اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کس شہر کا نام لیا تھا؟ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ یمن چلا جائے اور اس کے کنوؤں کا پانی پیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کا میرے لئے ذمہ لیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22489]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد حسن
1003. حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22490
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: أَتَانِي أبو العالية , أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، قَالَ: فَقَالَ لَنَا هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ مِنِّي سِنًّا، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي , قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو الْعَالِيَةِ: تُحَدِّثُ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: اللَّيْثِيُّ، قَالَ: بَهْزٌ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ , قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، قَالَ: فَأَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، قَالَ: فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ: الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّي مُسْلِمٌ , قَالَ: فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، قَالَ: فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ أَيْضًا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ، فَقَالَ الثَّالِثَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَى مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے پاس میرے ایک ساتھی کے ساتھ ابو العالیہ رحمہ اللہ آئے اور کہنے لگے کہ تم دونوں میرے ساتھ بشر بن عاصم کے پاس چلو کہ تم دونوں عمر میں بھی مجھ سے جوان ہو اور حدیث کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی تم میں مجھ سے زیادہ ہے وہاں پہنچ کر ابو العالیہ نے بشر سے کہا کہ آپ ان دونوں کے سامنے اپنی حدیث بیان کیجئے چنانچہ بشر نے کہا کہ ہمیں حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ روانہ فرمایا اس نے ایک قوم پر حملہ کیا اس قوم کا ایک آدمی اپنی قوم سے نکلا تو اس دستے کا ایک آدمی اپنی تلوار لہراتا ہوا اس کی طرف لپکا اس شخص نے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور تلوار کا وار کر کے اسے قتل کردیا۔ اس واقعے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت بیان کی جس کی اطلاع قاتل تک بھی پہنچی حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور اس کی جانب بیٹھے ہوئے تمام لوگوں سے منہ موڑ لیا اور برابر تقریر جاری رکھی تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر اس وقت غم و غصے کے آثار تھے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22490]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن كان بشر بن عاصم هو الذى وثقه النسائي، وإلا كان الإسناد حسنا، والحديث صحيح لغيره
1004. حَدِيثُ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22491
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُ نَاسًا مُجْتَمِعِينَ، وَشَيْخٌ يُحَدِّثُهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ" .
قاسم " جو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد دمشق میں داخل ہوا وہاں میں نے کچھ لوگوں کا مجمع دیکھا جنہیں ایک بزرگ حدیث سنا رہے تھے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ہیں میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص گوشت کھائے اسے چاہئے کہ نیا وضو کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22491]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة سليمان أبى الربيع
1005. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22492
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَقَالَ: " الْتَمِسْ صَاحِبًا" , قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا , قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ , قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ صَاحِبًا فَآذِنِّي" , قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ؟" قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ , قَالَ: فَقَالَ:" إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبَكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ" , قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْتُ الْأَبْوَاءَ، فَقَالَ لِي: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ، فَتَلَبَّثْ لِي قَالَ: قُلْتُ: رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي، ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُهُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بَالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطِهِ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي، قَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ , قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ فَمَضَيْنَا، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ .
حضرت عمرو بن فغواء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں قریش کو تقسیم کرنے کے لئے کچھ مال حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا چاہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے ساتھ ایک اور رفیق سفر کو تلاش کرلو، تھوڑی دیر بعد میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ سفر پر جا رہے ہیں اور کسی ساتھی کی تلاش میں ہیں؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کہا کہ میں سفر میں آپ کی رفاقت اختیار کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا جب تمہیں کوئی ساتھی مل جائے تو مجھے بتانا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ عمرو بن امیہ ضمری ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ان کی قوم کے علاقے میں پڑاؤ کرو تو ان سے بچ کر رہنا کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ " تم اپنے حقیقی بھائی سے بھی اپنے آپ کو مامون نہ سمجھو۔ " بہرحال! ہم لوگ روانہ ہوگئے جب ہم مقام ابواء میں پہنچے تو عمرو نے مجھ سے کہا کہ مجھے ودان میں اپنی قوم میں ایک کام یاد آگیا ہے آپ میرا انتظار کیجئے گا میں نے کہا بلا تکلف ضرور، جب وہ چلے گئے تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یاد آگیا چنانچہ میں نے اپنا سامان اپنے اونٹ پر باندھا اور اپنا اونٹ تیزی سے دوڑاتے ہوئے اس علاقے سے نکل گیا جب میں " اصافر " نامی جگہ پر پہنچا تو وہ اپنے ایک گروہ کے ساتھ میرا راستہ روک کر کھڑا ہوا نظر آیا میں نے اپنی رفتار مزید تیز کردی اور بچ کر نکل گیا جب اس نے دیکھا کہ میں اس کے ہاتھ سے بچ نکلا ہوں تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور عمرو میرے پاس آکر کہنے لگا کہ مجھے اپنی قوم میں ایک ضروری کام تھا میں نے کہا بہت بہتر پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر مکہ مکرمہ پہنچے اور میں نے وہ مال حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22492]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعدة علل، وهو حديث غريب بهذه السياقة، لم يتابع رواته عليه
1006. حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22493
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ , مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ" , قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، فَلَمْ نَرَهَا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا، قَالَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ:" فِي الدَّيْنِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ" .
حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صحن مسجد میں اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں جنازے رکھے جاتے تھے ہمارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھا پھر اپنی نظریں جھکا لیں اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کردو مرتبہ سبحان اللہ کہا اور فرمایا کتنی بات اتری ہے؟ ہم ایک دن رات خاموش رہے لیکن ہمیں خیر کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دیا اگلے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ سخت بات کیا ہے جو اتری ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا تعلق قرض سے ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے پھر اسے زندگی ملے اور وہ دوبارہ شہید ہوجائے پھر زندگی ملے اور وہ شہید ہوجائے اور پھر زندگی مل جائے اور اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی تک وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22493]
الحكم على الحديث:
ضعيف بهذه السياقة، أبو كثير لم يوجد له توثيق، وقد اختلف عليه فى هذا الإسناد