مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1012. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22504
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ أَبُو عَقِيلٍ الْقُرَشِيُّ , أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ " احْتَلَمَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَكَحَ النِّسَاءَ" .
زہرہ ابو عقیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بالغ ہوچکے تھے اور نکاح بھی کرلیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22504]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
1013. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22505
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ:" وَاكِلْهَا" .
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا تم کھا پی سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22505]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1014. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22506
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ اس وقت تک ہلاکت میں نہیں پڑیں گے جب تک اپنے گناہ کرتے کرتے کوئی عذر نہ چھوڑیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22506]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22507
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عاریت ادا کی جائے اور ہدیئے کا بدلہ دیا جائے قرض ادا کیا جائے اور قرض دار ضامن ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22507]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف ، سعيد بن أبى سعيد اختلف فى تعيينه
1015. حَدِيثُ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22508
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ , عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ! قَالَ: بَلَى، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ , قَالَ: فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ , قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" .
حضرت ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا اس نے اعتراف جرم کرلیا لیکن اس کے پاس سے سامان نہیں مل سکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میرا خیال نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہوگی؟ اس نے دو تین مرتبہ کہا کیوں نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ کر میرے پاس اسے واپس لاؤ چنانچھ اس کا ہاتھ کاٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا یوں کہو " استغفر اللہ واتوب الیہ " اس نے اسی طرح کہہ دیا " استغفر اللہ واتوب الیہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22508]
الحكم على الحديث:
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المنذر
1016. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22509
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا لَقِيَنَا دَاعِي امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ تَدْعُوكَ وَمَنْ مَعَكَ إِلَى طَعَامٍ فَانْصَرَفَ، فَانْصَرَفْنَا مَعَهُ، فَجَلَسْنَا مَجَالِسَ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، ثُمَّ جِيءَ بِالطَّعَامِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَوَضَعَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ فَفَطِنَ لَهُ الْقَوْمُ، وَهُوَ يَلُوكُ لُقْمَتَهُ، لَا يُجِيزُهَا، فَرَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَغَفَلُوا عَنَّا، ثُمَّ ذَكَرُوا فَأَخَذُوا بِأَيْدِينَا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ اللُّقْمَةَ بِيَدِهِ حَتَّى تَسْقُطَ، ثُمَّ أَمْسَكُوا بِأَيْدِينَا، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَفَظَهَا، فَأَلْقَاهَا، فَقَالَ: " أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا" , فَقَامَتْ الْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ فِي نَفْسِي أَنْ أَجْمَعَكَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى طَعَامٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَلَمْ أَجِدْ شَاةً تُبَاعُ، وَكَانَ عَامِرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْتَاعَ شَاةً أَمْسِ مِنَ الْبَقِيعِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ أَنْ ابْتُغِيَ لِي شَاةٌ فِي الْبَقِيعِ فَلَمْ تُوجَدْ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ شَاةً، فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَلَمْ يَجِدْهُ الرَّسُولُ، وَوَجَدَ أَهْلَهُ، فَدَفَعُوهَا إِلَى رَسُولِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب واپس ہوئے تو ہمیں قریش کی ایک عورت کا قاصد ملا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! فلاں عورت نے آپ کی اور آپ کے ہمراہ تمام لوگوں کی کھانے کی دعوت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور ہم بھی چلے گئے وہاں پہنچ کر ہم لوگ بیٹھ گئے اور کچھ لوگوں کے بچے ان کے آگے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد کھانا لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ رکھا لوگوں نے اپنے ہاتھ بڑھائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لقمہ لے کر اسے چبا نے لگے لیکن وہ حلق میں سے نیچے نہیں اتر رہا تھا لوگ سمجھ گئے اور اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہماری طرف سے وہ غافل ہوچکے تھے پھر جب دھیان ہوا تو ہمارے ہاتھ بھی پکڑ لئے ایک آدمی لقمہ توڑنے لگا تو وہ اس کے ہاتھ سے گرگیا پھر وہ ہمارے ہاتھ روک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے کہ اب وہ کیا کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چبانے کی کوشش کی لیکن پھر اسے اگل دیا اور فرمایا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بکری اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے؟ یہ سن کر وہ عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے دل میں خیال آیا کہ آپ کو اور آپ کے ہمراہ تمام لوگوں کو کھانے پر جمع کروں چنانچہ میں نے بقیع کی طرف ایک آدمی کو بھیجا لیکن وہاں سے بکری نہیں ملی جبکہ عامر بن ابی وقاص نے کل شام ہی بقیع سے ایک بکری خریدی تھی میں نے انہیں پیغام بھیجا کہ بقیع میں میرے لئے بکری تلاش کی گئی ہے لیکن وہ نہیں مل سکی مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے بھی ایک بکری خریدی ہے آپ وہ میرے پاس بھیج دیں قاصد کو وہ اپنے گھر میں نہیں ملے البتہ ان کے گھر والے موجود تھے، انہوں نے وہ بکری میرے قاصد کو دے دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22509]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
1017. حَدِيثُ أَبِي السَّوَّارِ عَنْ خَالِهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22510
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، حَدَّثَهُ أَبُو السَّوَّارِ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ فَأَتْبَعْتُهُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: وَأَبْقَى الْقَوْمُ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً، إِمَّا بِعَسِيبٍ أَوْ قَضِيبٍ أَوْ سِوَاكٍ، وَشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ، قَالَ: أَوْ قُلْتُ: مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِشَيْءٍ عَلِمَهُ اللَّهُ فِيَّ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي , أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكَ رَاعٍ، فَلَا تَكْسِرَنَّ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ أَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ أُنَاسًا يَتْبَعُونِي، وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتْبَعُونِي , اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا" , أَوْ قَالَ:" مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً" , أَوْ كَمَا قَالَ.
ابوالسوار اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے ہیں میں بھی ان میں شامل ہوگیا اچانک لوگ دوڑنے لگے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قریب پہنچ کر کسی ٹہنی، سرکنڈے، مسواک یا کسی اور چیز کے ساتھ ہلکی سی ضرب لگائی جو ان کے پاس تھی، لیکن بخدا! مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی رات ہوئی تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو مارا ہے وہ یقینا کسی ایسی بات پر ہوگا جو اللہ نے انہیں میرے متعلق بتادی ہوگی پھر میرے دل میں خیال آیا کہ صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں، ادھر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ وحی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے کہ آپ راعی ہیں لہٰذا اپنی رعیت کے سینگ نہ توڑیں۔ جب ہم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! کچھ لوگ میرے پیچھے چلتے ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میرے پیچھے چلے اے اللہ! میں نے جسے مارا ہو یا سخت سست کہا ہو اسے اس کے لئے کفارہ اور باعث اجر بنا دے یا یہ فرمایا باعث مغفرت و رحمت بنا دے یا جیسے بھی فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22510]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
1018. حَدِيثُ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22511
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَخَذْتُ بِكَشْحِهَا، قَالَ: وَأَصْبَحَ الرَّسُولُ يُبَايِعُ النَّاسَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَلَمْ يُبَايِعْنِي، فَقَالَ: " صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ! قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَعُودُ , قَالَ:" فَبَايَعَنِي" .
حضرت ابو شہم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک باندی میرے پاس سے گذری تو میں نے اسے اس کے پہلو سے پکڑ لیا اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کی اور میں بھی حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہیں لی اور فرمایا تم باندی کو کھینچنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بھی بیعت لے لی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22511]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22512
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا بَطَّالًا، قَالَ: فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، إِذْ هَوَيْتُ إِلَى كَشْحِهَا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ، فَقَبَضَ يَدَهُ، وَقَالَ: " أَحْسِبُكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ يَعْنِي: أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنِي، فَوَاللَّهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا , قَالَ:" فَنَعَمْ إِذًا" .
حضرت ابو شہم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک باندی میرے پاس سے گذری تو میں نے اسے اس کے پہلو سے پکڑ لیا اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کی اور میں بھی حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہیں لی اور فرمایا تم باندی کو کھینچنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بیعت کرلیجئے اللہ کی قسم! آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ٹھیک ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22512]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، يزيد بن عطاء فيه لين ، فقد توبع
1019. حَدِيثُ مُخَارِقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22513
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَسْرِقَنِي أَوْ يَأْخُذَ مِنِّي مَالِي مَا تَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: " تُعْظِّمُ عَلَيْهِ بِاللَّهِ , قَالَ: فَإِنْ فَعَلْتُ فَلَمْ يَنْتَهِ؟ قَالَ: تَسْتَعْدِي السُّلْطَانَ , قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِقُرْبِي مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: تُجَاهِدُهُ أَوْ تُقَاتِلُهُ حَتَّى تُكْتَبَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ، أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ" .
حضرت مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی میرے یہاں چوری کرنے یا میرا مال چھیننے کی نیت سے میرے پاس آئے تو آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اہمیت واضح کرو، اس نے کہا کہ اگر میں ایسا کرتا ہوں لیکن وہ اپنے ارادے سے پھر بھی باز نہیں آتا تو کیا کروں؟ فرمایا بادشاہ سے اس کے خلاف مدد حاصل کرو، اس نے پوچھا کہ اگر میرے پاس کوئی اور مسلمان نہ ہو (اور وہ مجھ پر فوراً حملہ کر دے) تو کیا کروں؟ فرمایا پھر تم بھی اس سے لڑو یہاں تک کہ تم شہداء آخرت میں لکھے جاؤ یا اپنے مال کو بچالو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22513]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن إن كان متصلا ، ففي صحبة مخارق خلاف