مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1028. حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22872
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا" .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ! نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک دن کی پہرہ داری دنیا و ماعلیہا سے بہتر ہے اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22872]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 22873
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، أَبْصَرْتُ أَنْ لَا يَرِدَ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ" , قَالَ: فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ أُحَدِّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَأَشْهَدُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَزِيدُ فِيهِ، فَيَقُولُ:" وَأَقُولُ: إِنَّهُمْ أُمَّتِي، أَوْ مِنِّي، فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، أَوْ مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي".
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا جو شخص وہاں آئے گا وہ اس کا پانی بھی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر ان کے اور میرے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ حضرت نعمان بن ابی عیاش نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو کہنے لگے کیا تم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا اعمال سر انجام دیئے تھے؟ میں کہوں گا کہ دور ہوجائیں وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22873]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7050، م: 2290، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 22874
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22874]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد
حدیث نمبر: 22875
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَدَعَاهَا، فَسَأَلَهَا عَمَّا قَالَ، فَأَنْكَرَتْ، فَحَدَّهُ وَتَرَكَهَا" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس نے ایک عورت سے بدکاری کی ہے جس کا نام بھی اس نے بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس شخص کی بات کے متعلق پوچھا تو اس نے انکار کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی پر حد جاری فرما دی اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22875]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم، وقد توبع
حدیث نمبر: 22876
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ" , قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ:" كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوْ الْغَرْبِيِّ".
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت بالا خانوں کو جنت میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان پر ستارے دیکھتے ہو راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جیسے تم مشرقی یا مغربی افق میں ایک چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22876]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2830
حدیث نمبر: 22877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ، كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مؤمن کا اہل ایمان میں وہی درجہ ہوتا ہے جو سر کا جسم میں ہوتا ہے اور ایک مومن تمام اہل ایمان کے لئے اسی طرح تڑپتا ہے جیسے سر کی تکلیف کے لئے تڑپتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22877]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن ثابت، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22878
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ" .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ پہلے لوگوں کے طریقوں پر پورا پورا چل کر رہو گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22878]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 22879
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا جَمِيلٌ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكْنِي زَمَانٌ وْ لَا تُدْرِكُوا زَمَانًا لَا يُتْبَعُ فِيهِ الْعَلِيمُ، وَلَا يُسْتَحَى فِيهِ مِنَ الْحَلِيمِ، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ، وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میں ایسا دور کبھی نہ پاؤں اور تم بھی نہ پاؤ جس میں اہل علم کی پیروی نہ کی جائے بردبار لوگوں سے شرم نہ کی جائے جن کے دل عجمیوں کی طرح اور زبانیں اہل عرب کی طرح ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22879]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة جميل الأسلمي، وحديثه عن سهل معلول، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 22880
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ أَسْلَمَ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تبع کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22880]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة وأبي زرعة
1029. حَدِيثُ أَبِي زَيْدٍ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22881
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَهِيكٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، فَأَتَيْتُهُ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَكَانَتْ فِيهِ شَعَرَةٌ فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ" , قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ لَيْسَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَةٌ بَيْضَاءُ.
حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا میں ایک پیالے میں پانی لے کر حاضر ہوا اس میں ایک بال تھا جسے میں نے نکال لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اسے جمال عطاء فرما راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ کو ٩٤ سال کی عمر میں دیکھا تو ان کی داڑھی میں ایک بال بھی سفید نہ تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22881]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن