مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1030. حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22912
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ"، وَقَالَ" النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ" .
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22912]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك
حدیث نمبر: 22913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ: " قُومُوا صَلُّوا حَتَّى أُصَلِّيَ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا" .
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاؤں چنانچہ لوگوں نے ان کے پیچھے صف بندی کی انہوں نے تکبیر کہہ کر رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر (سجدے میں گئے) اور ساری نماز میں اس طرح کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22913]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22914
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ أَوْ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ لِلدَّارِ، فَيَقْتَسِمَانِ فَيَسْرِقُ أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَيُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" ..
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلماً لے لیتا ہے ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22914]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22915
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ: الْأَشْعَرِيُّ وَقَالَ:" إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ"..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22915]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22916
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: الْأَشْجَعِيُّ، أَوْ قَالَ: الْأَشْعَرِيُّ..
الحكم على الحديث:
.....
حدیث نمبر: 22917
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْأَشْجَعِيُّ.
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 22918
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطْ يَدِهِ: حُدِّثْتُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ (۱) الْوَاقِفِيِّ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي وَاقِفٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكِ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ: وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، والعباس بن الفضل متروك
1031. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَنَّ ابنَ بحَيْنَةَ أَخْبرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي الثِّنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَى أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ خَتَمَ بالتَّسْلِيمِ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22919]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1225، م: 570
حدیث نمبر: 22920
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابنِ بحَيْنَة : " صَلَّى بنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ لَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ قَبلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22920]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 829، م: 570
حدیث نمبر: 22921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بنُ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، لَاثَ النَّاسُ بهِ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصُّبحُ أَرْبعًا؟!" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتیں اس وقت پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ نماز کھڑی ہوچکی تھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اسے گھیر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا فجر کی چار رکعتیں ہوتی ہیں؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22921]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 663، م: 711، فقوله: مالك بن بحينة خطأ، صوابه: عبدالله بن بحينة