🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21441
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ" قَالَهَا: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" .
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21441]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21442
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَهُ فَسَأَلَهُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِكَ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ هَذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَهُ دَعْوَتُهُ، قَالَ: وَمَا دُعَاءُ لِبَهِيمَةِ مِنَ الْبَهَائِمِ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَهُوَ يَدْعُو كُلَّ سَحَرٍ، فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عِبَادِكَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ" ، قَالَ عَبْدُ الله بْنِ أَحْمَدُ: قَالَ أَبِي: وَوَافَقَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ.
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21442]

الحكم على الحديث:
إسناد هذا الأثر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21443
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ ، عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ الْغُبَرِيّ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، قُلْتُ: لَيْسَ بِسِرٍّ، وَلَكِنْ" كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ؟" قَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ، أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فلان عنزی کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک جگہ لوگ منتشر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا اگر کوئی راز کی بات ہوئی تو وہ نہیں بتاؤں گا میں نے عرض کیا کہ راز کی بات نہیں ہے اگر کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ سب سے آخر میں واقعہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر مجھے بلایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیٹا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے سینے سے لگالیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21443]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21444
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ : حِينَ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ فَقَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مدینہ منورہ کے کسی کنارے سے نکلے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بوذر! نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21444]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21445
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْنَا مِنْ حَاشِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَإِنْ جِئْتَ وَقَدْ صَلَّى الْإِمَامُ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنْ جِئْتَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُكَ لَكَ نَافِلَةً، وَكُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ جَاعُوا حَتَّى لَا تَبْلُغَ مَسْجِدَكَ مِنَ الْجَهْدِ، أَوْ لَا تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ مِنَ الْجَهْدِ، فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَصَبَّرْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ مَاتُوا حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَعَفَّفْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ قُتِلُوا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَدْخُلُ بَيْتَكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ أَنَا دُخِلَ عَلَيَّ؟ قَالَ:" تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَأَحْمِلُ السِّلَاحَ؟ قَالَ:" إِذًا شَارَكْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ خِفْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ، يَبُؤْ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنا ردیف بنالیا اور فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوجائیں گے اور تم اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک نہیں جاسکو گے تو اس وقت تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچانا پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدت کے ساتھ بکثرت مرنے لگیں گے اور آدمی کا گھر قبر ہی ہوگی تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی صبر کرنا، پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے اور حجارۃ الزیت " خون میں ڈوب جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے گھر میں رہنے ہی نہ دیا جائے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو اور ان میں شامل ہوجانا انہوں نے عرض کیا میں تو اپنا اسلحہ پکڑ لوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم بھی ان کے شریک سمجھے جاؤ گے اس لئے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی دھار سے تمہیں خطرہ ہے تو تم اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹ جائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21445]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21446
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ح وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى؟، فَقَالَ: " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ"، قَالَ مُؤَمَّلٌ عَنْ تَسْوِيَةِ الْحَصَى، أَوْ مَسْحِ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتٰی کہ دوران نماز کنکریوں کو ہٹانے کے متعلق بھی پوچھا ہے جس کا جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیا ہے کہ صرف ایک مرتبہ برابر کرلو یا چھوڑ دو (اسی طرح رہنے دو) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21446]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، مؤمل وابن أبى ليلي ضعيفان، لكنهما متابعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21447
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنَ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ، وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ! قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ، وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ، وَقَالَ: وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنالمبا قیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ اگلی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ٢٨ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہمیں " فلاح " کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگا میں نے " فلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی سحری بتایا پھر فرمایا اے بھتیجے! اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی کسی رات میں ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21447]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ . ح وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا تُحَرِّكُوا الْحَصَى" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21448]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21449
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَقَالَ: أَيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا" قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ الصَّانِعَ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" فَدَعْ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21449]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2518، م: 84، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21450
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَكَّافُ، هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" وَلَا جَارِيَةٍ؟" قَالَ: وَلَا جَارِيَةَ، قَالَ:" وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ؟" قَالَ: وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ، قَالَ:" أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، لَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ، أَبِالشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ! مَا لِلشَّيْطَانِ مِنْ سِلَاحٍ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ، أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا، وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ، إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ"، فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِئَةِ عَامٍ، يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا، وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَ اللَّهُ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ، وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ" قَالَ: زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ " عکاف بن بشر تمیمی " نام کا ایک آدمی آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا عکاف! تمہاری کوئی بیوی ہے؟ عکاف نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کوئی باندی؟ اس نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم مالدار بھی ہو؟ عرض کیا جی الحمدللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں شمار ہوتے لیکن ہماری سنت تو نکاح ہے تم میں سے بدترین لوگ کنوارے ہیں اور گھٹیا ترین موت مرنے والے کنوارے ہیں کیا تم شیطان سے لڑتے ہو؟ شیطان کے پاس نیک آدمیوں کے لئے عورتوں سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں سوائے اس کے کہ وہ شادی شدہ ہوں یہی لوگ پاکیزہ اور گندگی سے مبرا ہوتے ہیں عکاف یہ عورتیں تو حضرت ایوب علیہ السلام داؤد علیہ السلام، یوسف علیہ السلام اور کرسف علیہ السلام کی ساتھی رہی ہیں بشر بن عطیہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کرسف کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک آدمی تھا جو کسی ساحل پر تین سو سال تک اللہ کی عبادت میں مصروف رہا دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قیام کرتا تھا لیکن پھر ایک عورت کے عشق کے چکر میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کر بیٹھا اور اللہ کی عبادت بھی چھوڑ دی بعد میں اللہ نے اس کی دستگیری فرمائی اور اس کی توبہ قبول فرمالی ارے عکاف! نکاح کرلو ورنہ تم تذبذب کا شکار رہو گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ خود ہی میرا نکاح کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تمہارا نکاح کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21450]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى ذر، وللاضطراب الذى وقع فى أسانيده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں