مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
953. بَاقِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا , فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فقَال: " وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا! میں لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21700]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 21701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرنا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ ابن مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21701]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
حدیث نمبر: 21702
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , وحَدَّثَنَا مَكِّيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , قَالَ مَكِّيٌ: وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ , فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ" , قَالُوا وَذَلِكَ! مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونے چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سا عمل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21702]
الحكم على الحديث:
رفعه لا يصح، والصحيح وقفه على ابي الدرداء، فقد اختلف فى رفعه ووقفه، وفي ارساله ووصله
حدیث نمبر: 21703
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے "" قریب "" جانا چاہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21703]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1441
حدیث نمبر: 21704
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , حَدِيثًا يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ" فَذَكَرَ الْحَدِيث يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , وَمَكِّيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21704]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، زياد بن أبى زياد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21705
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَعْجَبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ" , قَالُوا: كَيْفَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَوْ مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑہنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21705]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 21706
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ , عَنِ الضَّبُعِ , فَكَرِهَهَا , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ! قَالَ: لَا يَعْلَمُونَ , فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نُهْبَةٍ , وَكُلِّ ذِي خَطْفَةٍ , وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" , قَالَ سَعِيدٌ: صَدَقَ.
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21706]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد وإبهام الرجل الذى روى الحديث عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21707
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ , قَالَ: وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ , قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ , فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ , وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , فَقَالَتْ: تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ , كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ: آمِينَ , وَلَكَ بِمِثْل" , فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ , فَأَلْقَى أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , وَيَعْلَى , قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ صَفْوَانَ , قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ.
صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء تھیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں ملے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے کہ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تمہیں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے بھی ملاقات ہوگئی انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21707]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21708
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21709
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مَالِك يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ أَبِي عُمَرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ , أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ , قَالَ: فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ , أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ , وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ , وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ , قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ , لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ , وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ , إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ: دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً , وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً , وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے یہاں آیا انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں؟ اس نے کہا کہ میں مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تو میں تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مالدار تو دنیا و آخرت دونوں لے گئے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی رکھتے ہیں، البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں پا نہ سکے الاّ یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21709]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو عمر مستور، وروايته