🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25031
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا، فَقُلْتُ: لَهَا إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ صَبَبْتُ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتَقْتُكِ. فَاسْتَأْمَرَتْ مَوَالِيَهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا اگر تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں تو میں ایک ہی مرتبہ تمہاری ساری قیمت ادا کرکے تمہیں آزاد کردیتی ہوں، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25031]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25032
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَسَمَ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي ذِي الْحَاجَةِ مِنَ النَّاسِ، وَفِي أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ الْمِسْوَرُ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا؟ قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَحِنُّ عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ" . سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ..
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25032]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25033
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يُحْنِي عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ".

الحكم على الحديث:
حديث حسن وهو مكرر سابقا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25034
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ..
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) کھرچ دیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25034]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25035
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25036
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سوتے تو خراٹے لینے لگتے، پھر بیدار ہو کر نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھنے لگتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25036]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25037
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25037]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25038
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَلَا عُمَرَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25038]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25039
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ، وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر کی نماز اس کے آخر وقت میں اور عصر کی نماز اول وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز آخر وقت میں اور عشاء کی نماز اول میں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25039]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لتفرد مغيرة بن زياد وهو ممن لا يحتمل تفرده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25040
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟! وَمَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟!" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25040]

الحكم على الحديث:
حديث منكر، محمد بن عمران الحجبي لم يعرف إلا بهذا الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں